پرویز مشرف کو باہر کس نے بھیجا؟

پرویز مشرف کو باہر کس نے بھیجا؟


اسلام آباد(24نیوز)چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق صدر پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007 کے اقدام کے ٹرائل سے متعلق مقدمے میں ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت نے ملزم کو خود باہر جانے دیا اور واپس لانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔

سپریم کورٹ میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے خصوصی عدالت کا 28 مارچ کا فیصلہ عدالت میں پڑھ کر سنایا، وکیل پرویز مشرف سلمان صفدر  نے کہا کہ میرا موکل پاکستان آنا چاہتا ہے,میرا موکل خود آکر اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتا ہے,صحت کے مسائل سامنے آرہے ہیں, پرویز مشرف کیمو تھراپی کراتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ کے آخری حکم کے مطابق سماعت 2 مئی کو ہونی ہے، تحریری حکم کے مطابق 2 مئی تک سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مشرف کے وکیل نے کی، کیا 2 مئی کو پرویز مشرف کی وطن واپسی طے شدہ ہے؟

پرویز مشرف کے وکیل بولے گارنٹی نہیں دے سکتا مگر مجھے ہدایات دی گئی ہیں,چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سنگین غداری کیس جس قانون کے تحت چل رہا ہے اس کا سیکشن 9 بہت اہم ہے لیکن وہ ان حالات میں قابل استعمال ہے یا نہیں دیکھنا ہوگا, ہمارے قانون سازوں نے بھی کچھ سوچ کر سنگین غداری کیس کی شق 9 پر کام کیا ہوگا, اس کیس میں درخواست گزاروں کا اب کوئی کام نہیں رہا,وکیل مشرف وہ جو چاہتے تھے کہ غداری کیس پر ٹرائل شروع ہو وہ شروع ہو چکا ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer