پاکستان اور چین کا تجارت، دفاع سمیت تمام شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق


سوچی (24نیوز): پاکستان اور چین نے خصوصا سیاست، معیشت، تجارت، دفاع اور سٹرٹیجک سمیت تمام شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق رائے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اور ان کے چینی ہم منصب لی کیانگ کے درمیان روس کے شہر سوچی میں ایک ملاقات کے دوران طے پایا۔

 

چینی وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان سدا بہار سٹرٹیجک تعاون پر مبنی شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک چین پالیسی سمیت چین کے تمام اہم معاملات کیلئے پاکستان کی روایتی بھر پور حمایت کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماﺅں نے کہا کہ پاک چین شراکت داری علاقائی اور عالمی امن واستحکام میں اضافے کا باعث ہے۔ وزیر اعظم اپنے روسی ہم منصب دمتری کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ سمیت شنگھائی تعاون کے مقاصد کیلئے پاکستان کی حمایت اور علاقائی امن واستحکام اور ترقی میں پاکستان کی بھرپور دلچسپی پر روشنی ڈالیں گے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دہشت گرد گروپوں کو پناہ دینے کے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کی کارروائیاں افغانستان سے کی جا رہی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحد کے اندر حقانی نیٹ ورک سمیت تمام شدت پسندو گروپوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے امریکا سے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کریں، ہم خود ان کے خلاف کارروئی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے سرحد پار سے ہو رہے ہیں اور ہم شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کر چکے ہیں، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی سرحد پار سے حملے ہیں۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کی سختی سے تردید کر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے ترجمان نے اکتوبر میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب ملک میں کوئی بھی منظم دہشت گرد تنظیم موجود نہیں ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی دورہ امریکا کے دوران اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کو یہی پیغام دیا تھا۔

 جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائی سے متعلق پوچھے گئے۔ سوال پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارا اپنا عدالتی نظام ہے اور عدالت کے تین رکنی بینچ نے عدم ثبوتوں کی بنا پر حافظ سعید کو رہا کیا۔

 انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے حافظ سعید کے خلاف الزامات عائد کیے گئے لیکن کسی قسم کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔