ختم نبوت سے متعلق قانون میں تمام جماعتیں شامل تھیں: طلال چوہدری


 فیصل آباد(24نیوز): وزیر مملکت طلال چودھری کا کہنا ہے کہ 2014اور17کے دھرنے میں صرف داڑھی کا فرق ہے، ایک دھرنے میں گالی دینے والے کی داڑھی تھی.دوسرا بغیر داڑھی کے تھا۔ گالی اور لاٹھی دونوں دھرنوں میں تھی۔

تفصیلات کے مطابق طلال چودھری نے کہا کہ این اے 120میں اہل حدیث اور بریلویوں کو ن لیگ کے مقابلے میں لایا گیا۔ دھرنوں کے پیچھے مشرف کی سوچ کارفرما ہے جو پاکستان میں جمہوریت چاہتی ہے اور نہ ہی آئین و قانون کی عملداری۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت سے متعلق قانون میں تمام جماعتیں شامل تھیں ، شکر ہےگزشتہ روز اعتزاز احسن نے سچ بولا اور تسلیم کیا کہ تمام پارلیمنٹ ذمہ دار ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن اصلاحات بل 2017 کی ترمیم کے خلاف 2 بڑے دھرنے اسلام آباد اور لاہور میں دیئے گئے اور دونوں دھرنے والوں نے حکومت کو دھوکا دیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات بل 2017 کی کمیٹی میں چند لوگ (ن) لیگ کے جب کہ  80 فیصد ارکان اپوزیشن کے تھے، بل میں تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں جب کہ دھرنا نواز شریف کے خلاف دے دیا گیا جب کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن نے بہت عرصے کے بعد ایک سچ بولا اور اخلاقی لحاظ سے تسلیم کیا کہ یہ کام پوری پارلیمنٹ کا تھا، جبکہ اس سے قبل کسی نے نہیں کہا کہ اس قانون میں سب لوگ شامل تھے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جب سے (ن) لیگ نے اقتدار سنبھالا اس دن سے ایک سازش کے تحت نواز شریف اور ہماری جماعت کے خلاف دھرنے اور مظاہرے شروع کردیئے گئے، پہلے دھرنے میں بغیر داڑھی والے اور دوسرے  دھرنے میں داڑھی والے تھے لیکن گالیاں اور لاٹھیاں دونوں دھرنوں میں استعمال کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو اقتدار سے باہر کرنے کے لئے پٹیشن کسی اور بات کی دائر ہوئی جبکہ سزا کسی اور بات کی ملی، پہلی بارقانون سے ہٹ کر جے آئی ٹی بنائی گئی، نوازشریف کو گراتے ہوئے یہ نہیں دیکھا گیا کہ پاکستان کی معیشت کو کتنا نقصان ہوا، اسٹاک ایکسچینج کتنی گری، ن لیگ کو ٹارگٹ کرنے والی سوچ ملک کو خوشحال نہیں دیکھنا چاہتی۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سیاست کی خاطر نفرت کا پیغام دے رہے ہیں یہ چاہتے ہیں قانون کی عملداری اور جمہوریت نہ رہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، پاکستان کا مستقبل جمہوریت کے چلتے رہنے میں ہے ہماری درخواست ہے کہ سیاست والے سیاست کریں جن کا سیاست سے تعلق نہیں وہ اپنا کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ قومیں اصولوں کی بنیاد پر آگے جاتی ہیں، معیار سے نیچے گریں تو پستی کا شکار ہوجاتی ہیں، لیکن یہاں نوازشریف کو گراتے ہوئے اخلاقی قدریں بھی گرائی گئیں، افسوس کی بات ہے کہ مذہب کو بنیاد بنا کر دو طرف سے حملہ کیا گیا، تحریک لبیک کے دونوں گروپوں نے حکومت کو دھوکا دیا، اسلام آباد جانے والوں نے کہا کہ دھرنا نہیں دیں گے، دعا کرکے آجائیں گے جب کہ دوسرا دھرنا لاہور کے مال روڈ پر جاری ہے، دوسرے دھرنے والوں نے محفل میلاد کی اجازت لی اور اسے سیاسی جلسہ بنا دیا، ڈاکٹر آصف جلالی سے معاہدہ ہوا کہ رانا ثنااللہ اپنے بیان کی وضاحت کریں گے اور یہ لوگ صوبائی وزیر قانون کے استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے تھے لیکن اب یہ دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں اور رانا ثنااللہ کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔