جنوری 2018:روشنیوں کے شہر میں بد امنی کی تاریکی چھائی رہی


کراچی (24نیوز) جنوری کے مہینے میں جرائم پیشہ عناصر آزاد رہے ، پولیس بے بس دکھائی دی، پولیس گردی کے واقعات نے بھی محکمہ کی ساکھ کو گہنا کے رکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ و پر تشدد واقعات میں 37 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود نامی نوجوان ، شارع فیصل پر مقصود اور ڈیفنس میں انتظار نامی نوجوان کو بے دریغ فائرنگ سے قتل کردیا گیا۔ ابراہیم حیدری سے ایم کیوایم لندن کے رہنما پروفیسر حسن ظفر کی گاڑی سے پر اسرار طور پر لاش ملی۔  دوسری جانب کھارادر میں دستی بم حملے میں ایک شہری جاں بحق اور 6 شہری افراد ہوئے۔ شہر میں لوٹ مار کا بازار بھی جنوری کے مہینے میں گرم رہا۔ کارلفٹرز گروہ کے کارندوں نے شہریوں کو 1800 سے زائد گاڑیوں سے محروم کردیا۔

 سے سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق 190 موٹر سائیکلیں چھینی اور 1545 چوری کرلی گئیں۔ راہ زنی اور چوری کے دوران ملزمان نے شہریوں کو 2300 سے زائد موبائل فونز سے محروم کردیا۔