غریبوں کی سکیم امیروں کی جیب میں۔۔۔؟

تحریر:مناظرعلی

غریبوں کی سکیم امیروں کی جیب میں۔۔۔؟


اگرآپ اسلام آباد،کراچی یاپھرلاہور کے کسی مہنگے علاقے میں رہائشی پذیر ہیں اورآپ کے زیراستعمال گاڑی لگژری ہے،آپ ایک کنال کے گھرمیں رہتے ہیں،آپ کی چھٹیاں بیرون ملک گزرتی ہیں،آپ سب کچھ امپورٹڈاستعمال کرنے کے عادی ہیں،آپ کے بچے اچھی انگریزی بولتے ہیں اورگلابی اردوبول کرخودکوپڑھالکھاظاہرکرتے ہیں اورپنجابی زبان سےتوآپ کا دور دور تک تعلق نہیں،آپ کی خدمت کے لیےنوکرچاکرہیں توہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے سب کچھ ناجائزذرائع سے کمارکھاہے،آپ ایک ایماندارانسان ہوسکتے ہیں مگرغربت کیاہے؟غریب کے مسائل کیاہیں؟غریب کی صبح کیسے ہوتی ہے؟ناشتے میں کیاکھاتاہے،دوپہر کے کھانے میں کیادستیاب ہوتاہے اور رات کواُس کے حلق سے کیاخوراک نیچے اترتی ہے ؟شایداس کااحساس کرنامشکل ہو،اگرآپ امیری کے اس درجے پرہونے کے باوجودخط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تکلیف کوسمجھتے ہیں توپھرآپ درددل رکھنے والے انتہائی نیک آدمی ہوں گے۔۔مگرتلخ حقیقت یہی ہے کہ ایساکم ہی ہوتاہے۔

مجھے اُس وقت انتہائی حیرت ہوئی جب امیروں کے ہاتھوں بننے والی"نیاپاکستان ہاؤسنگ سکیم"کااشتہاردیکھا،حیرت آپ کوبھی ہوگی،ایک بارآپ ذراتصورکریں کہ وزیراعظم صاحب تقریرفرمارہے ہیں اورکہہ رہے ہیں کہ ہم غریبوں کوسستے گھردیں گے اورپھرآپ یہ اشتہاردیکھیں تویقینالفظ "سستے"پرسرپکڑکربیٹھ جائیں گے اورغریب کوایک بارپھراُسی بھیڑبکریوں کے ریوڑ سے تشبیہ دیں گے جوہربارسیاستدان کے نعروں پریقین کرکے انہیں ووٹ دیتے ہیں کہ شایداب کی باراُن کی تقدیربدلے گی،روٹی کپڑااورمکان سے شروع ہونے والامذاق اب بھی غریبوں سے ہورہاہے اورغریبوں کابھولا پن دیکھوکہ پھریقین کرلیتے ہیں،یہ مسئلہ صرف پی ٹی آئی کانہیں،یہ مسئلہ وہیں ہے جو میں نے ابتدامیں لکھاہے کہ جوطبقہ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کرغریبوں کی قسمت کے فیصلے کرتاہے وہ غربت کوسمجھتاہی نہیں۔۔مذکورہ سکیم اٹھارہ ماہ کی ہے جس میں ایک غریب آدمی نے بیس فیصد ڈاؤن پیمنٹ دینی ہے اورباقی نام نہاد"آسان" قسطوں میں اٹھارہ ماہ کے دوران اداکرنے ہیں،تین مرلہ مکان کی قیمت تقریباسولہ سے سترہ لاکھ روپے رکھی گئی ہے جس میں شرائط کے مطابق کمی بیشی بھی ہوگی۔۔عین ممکن ہے کہ یہ قیمت بڑھ جائے۔

مجھے اہل دانش صرف یہ بتائیں کہ ایک دیہاڑی داربندہ جومشکل سے کبھی دال روٹی کیلئے چار"آنے"کماکرشام کوگھرلاتا ہے اوروہ بھی اللہ توکل،کبھی فاقہ، توکبھی دو لقمے نصیب ہوجاتے ہیں،کیسے ایک لاکھ روپے ماہانہ جمع کراسکتاہے؟؟؟جوغریب آدمی بھوکاپیاسا دل کویہ سمجھاکر سوجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کوبھوک پیاس دے کربھی آزماتاہے،کوئی بات نہیں،مالک اگرتواس طرح خوش ہے تومیں بھی خوش ہوں،پھرایک لاکھ روپے ماہانہ قسط اداتودور کی بات،خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتا۔

وزیراعظم صاحب!آپ کامیانوالی میں خطاب بہت اچھاتھا،آپ کی باتیں ایک عالم دین کی طرح تھیں،اگرآپ واقعی دل سے بدل گئے ہیں توغریبوں کے لیے بنائی گئی سستے گھروں کی سکیم غریبوں کیلئے ہی ڈیزائن کرائیں،امیروں کیلئے نہیں۔۔ایک لاکھ روپے وہی قسط دے سکتاہے جس کی آمدن دو لاکھ روپے ہوگی اورجو دو لاکھ روپے کمارہاہے وہ غریب آدمی نہیں ہے،اس سکیم میں قسط کاتعین غریب کی آمدن کے تناسب سے کریں توہی یہ گھرغریب لے سکیں گے ورنہ ایک بارپھرسرمایہ دار اپنی جیبیں بھریں گےاورآپ کوغلط اعدادوشمارپیش کرکے آپ سے غلط تقریرکرادی جائےگی جسے مخالفین توخوب اچھالیں گے ہی ،ساتھ ساتھ غریب آدمی کے دل سے بھی دعانہیں نکلے گی،جس طرح آپ کوآپ کی اہلیہ محترمہ کی دن رات دعائیں مل رہی ہیں اُسی طرح غریبوں کی دعائیں بھی لیں،اس سکیم کوڈیزائن کرنے والے ماہرین پربھی ایک انکوائری لگائیں کہ انہیں غریبوں کی مشکلات کاہی علم نہیں تووہ کس بنیادپرغریبوں کےنام پرایک سکیم کوامیروں کی جیب میں ڈال رہے ہیں۔؟

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔