پیپلزپارٹی میں بغاوت کاتحریک انصاف کاخواب چکنا چور

پیپلزپارٹی میں بغاوت کاتحریک انصاف کاخواب چکنا چور


کراچی(24نیوز) وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے اورپیپلزپارٹی میں بغاوت کاتحریک انصاف کا خواب چکناچورہوگیا۔ پیپلزپارٹی کے21 ارکان نے پی ٹی آئی کے رابطہ کاروں کوسابق صدرسے بغاوت نہ کرنے کا صاف جواب دے دیا۔

سندھ اسمبلی میں اس وقت پیپلزپارٹی کے 99 اراکین ہیں جبکہ تحریک انصاف کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد میں تحریک انصاف کے 30، ایم کیو ایم کے 20 ، جی ڈے اے کے 14 تحریک لبیک پاکستان کے 3 اراکین ہیں جبکہ ایم ایم اے کا ایک رکن ہے،سندھ میں حکومت سازی کیلئےکم ازکم 85 اراکین ضروری ہیں، تحریک انصاف اگر پیپلز پارٹی کی حکومت گرا کر اپنی حکومت بنانا چاہتی ہے تو اسے مزید 18 اراکین کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش کی۔ 21اراکین کو ٹارگٹ کرکےرابطے کیے لیکن تمام ارکان نے آصف زرداری کے خلاف بغاوت کرنے سے انکار کر دیا۔  تحریک انصاف کی لسٹ میں ہیرسوھو،پیرمجیب الحق،انتھونی نوید،گیان مل گیان چند،سید شاہ حسین شیرازی، ریاض شاہ شیرازی،محمدعلی ملکانی، سردار شیر خان ہالیپوٹو،ارباب لطف اللہ،عبدالجبار خان شامل تھے،جبکہ سردارملک اسد سکندر،فقیر شیرمحمد بلالانی،میر طارق تالپور،سید سرفراز شاہ،جام نواز علی،جام اویس بجار، سردارمحمدخان ڈاہری اور عبدالروف کھوسو،میرنادر مگسی،عابد خان سندرانی اور محمد سلیم بلوچ کو نشانے پر رکھا گیا تھا۔ تحریک انصاف کاسندھ میں حکومت سازی کاپلان اس وقت ناکام ہوا جب رابطوں کے باوجود تمام 21 اکان نے نے پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے سے انکار کردیا.

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔