مہنگائی کاسونامی،آگے کیاہوگا؟

تحریر:مناظرعلی

مہنگائی کاسونامی،آگے کیاہوگا؟


اگرمیں آپ سے یہ پوچھوں کہ کیاکبھی آپ کوخوشی کے موقع پرکسی پیارے نے مہنگاتحفہ دیاہے؟تویقیناآپ کے پاس اس کاجواب ہوگا،آپ کو تحفہ دینے والے کانام اورتحفہ بھی اچھی طرح یادہوگا بلکہ وہ لمحہ ہوسکتاہے کہ آپ کے لیے ناقابل فراموش ہو۔

نیاسال خوشی کاموقع ہوتاہے جب کتنے ہی لوگ اپنے پیاروں کے لیے محفلیں سجاتے ہیں،ان کے لمحات یادگاربنانے کے لیے مختلف جتن کرتے ہیں،سرپرائزدیتے ہیں،ایسا اس لیے کیاجاتاہے کہ خوشیوں کے لمحے پروہ یہ تاثردے سکیں کہ وہ اپنوں سے کتنا زیادہ پیارکرتے ہیں۔نئے سال کی پہلی صبح جب ہرکوئی خوشگوار موڈ کیساتھ اپنے آفس،اپنی دکان اوراپنی ریڑھی پرپھل اورسبزیاں بیچنے کے لیے گھرسے باہرنکلاتومنزل مقصود تک پہنچنے کے لیے اسے اپنی موٹرسائیکل،رکشے اورگاڑی میں پٹرول یاڈیزل ڈلوانے کی ضرورت تھی لہذا جلدی جلدی پٹرول پمپ پہنچے توپتہ چلا کہ نئے سال کاسب سے مہنگاتحفہ انہیں دے دیاگیاہے بلکہ زبردستی تھما دیاگیاہے،پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی خبرشہریوں پربجلی بن کرگری اورمہنگائی کے طوفان میں مزیدتیزی آگئی اوریہ سلسلہ سونامی کی طرف بڑھتانظرآیا،خوشی غمی میں بدل گئی،خوش مزاج چہروں پرغصے کی سرخی نمایاں ہوگئی اورخوشی کے گیت گاتے شہریوں کی زبان پربے ساختہ ایسے الفاظ نکلے جنہیں یہاں لکھنامناسب نہیں۔

بادل نا خواستہ پٹرول سے ٹینکی تر کرانے کے لیے جیب ہلکی کرناپڑی کیوں کہ جیتے مرتے زندگی کاپہیہ تورواں رکھنا ہے،جب تک جسم وجاں کاتعلق قائم ہے،انسان ہمت نہیں ہارتا،چاہے ہرماہ ہی پٹرول بم گرتے رہیں اورایک ہمت یہ بھی تو ہے کہ وزیراعظم نے قوم سے وعدے کررکھے ہیں کہ وہ ملک وقوم کواوپراٹھائیں گے،اس کے لیے ایڑھی چوٹی کازور لگائیں گے لیکن اس مشکل میں قوم کوصبربھی کرناہوگا،ہمت بھی کرناہوگی اورگھبرانابھی نہیں ہوگا،سب کچھ ٹھیک ہے جناب وزیراعظم لیکن کیاکریں؟جناب منے کا فیڈرخالی ہوجاتاہے،جب آٹے کے برتن میں ایک پیڑے کاآٹا بھی نہیں رہتا،جب اچھے وقتوں میں بچائے گئے چندہزار روپے برے وقتوں کی نذرہوجاتے ہیں،جب شادی،بیاہ،بیماری اورخوشی غمی میں خرچ کرنے کے لیے الگ رکھے گئے پیسے بھی پیٹ کی آگ میں جل جاتے ہیں توپھرنہ چاہتے ہوئے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے،بہت ہمت کی مگرہمت تب ٹوٹ جاتی ہےجب چلتے چلتے موٹرسائیکل پنکچرہوجاتی ہے اورجیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ بوسیدہ ٹائرکوایک بارپھرہوا بھرنے کے قابل کراسکٰیں،بالکل بھی نہیں گھبراتے جناب ۔۔لیکن کیاکریں بچے کوسردی لگ جاتی ہے تووہ بیمارہوجاتاہے،میاں بیوی توپیناڈول کھاکر بخاراترنے کی امید لگالیتے ہیں مگرلخت جگرکی تکلیف کیسے برداشت کریں؟

سرکاری ہسپتالوں میں حال ایساہے کہ بس ذکر ہی نہ کریں،پرائیویٹ علاج گاہوں میں بچے کی درد کم کرنے کے لیے اپنی کھال اتروانی پڑتی ہے،نہیں گھبراتے مگربرداشت ساتھ چھوڑجاتی ہے جناب جب ڈاکٹرہزاروں روپے کا بل بنالیتے ہیں،انہیں بھی کیاکہیں؟۔۔ مہنگائی آخر ان پربھی تواتنا ہی اثرکرتی ہے،انہوں نے بھی تنخواہیں دینی ہیں،ان کے بھی بجلی،گیس،ٹیلی فون،انٹرنیٹ،دوائیوں اورنجانے کون کون سے اخراجات ہوتے ہیں،اگروہ مریض کے رشتے دار کی کھال نہیں اتاریں گے توپھران کانظام کیسے چلے گا؟سب مجبور ہیں،سب کے پاس مہنگائی کاجواز ہے مگرایک ماں،ایک باپ کے پاس بچے کو علاج نہ کرانے کاجواز نہیں،اسے بھوکے مرتادیکھنے کاجواز نہیں،ذرا سوچیں ریاست بھی توماں ہوتی ہے،پھراس کے پاس مہنگائی کرنے کاجوازکہاں سے آگیا؟ کوئی جواب ہے؟۔۔۔اگرہے تواس سوال کاجواب ہی دے دیجیےپھرہم قسم سے نہیں گھبرائیں گے ،مگرآپ کے ووٹر،سپورٹراورخیرخواہ ہونے کے باوجوداب آپ کے حق میں مزیدتکلیفیں برداشت نہیں کرسکتے،کچھ کرسکتے ہیں توکیجیےورنہ۔۔۔۔۔ورنہ ہمارے ساتھ آگے کیاہوگاہم بھی کچھ نہیں جانتے کیوں کہ مہنگائی کاسونامی سب کوڈرا رہاہے۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔