کم سونا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

کم سونا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟


لندن(ویب ڈیسک)ہم اکثر کم سونے پر فخر کرتے ہیں اور کم سونے کو اپنے زیادہ مصروف ہونے کا پیمانہ قرار دیتے ہیں۔لیکن کم سونا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے اس اکثر لوگ لاعلم ہوتے ہیں۔کم سونے والے اکثر کام کے دوران بھی اونگھتے رہتے ہیں یا بے چین رہتے ہیں۔

تھامس ایڈیسن، مارگریٹ تھیچر، مارتھا سٹیورٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ سب کا دعویٰ ہے کہ وہ رات کو صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں۔انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ روزانہ تقریباً 18 سے 20 گھنٹے کام کرتے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بارے میں بھی دعویٰ ہے کہ وہ کم سوتے تھے اور صبح سویرے ہی افسروں کو میٹنگ کیلئے بلا لیتے تھے۔وہ اب بھی کم سوتے ہیں۔

ماہرین کی عمومی رائے یہ ہے کہ بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے سونا چاہیے لیکن ایک تہائی امریکی بالغ افراد کو باقاعدگی سے مناسب نیند نہیں آتی ہے۔

کم سونے کے صحت پر بہت مضر اثرات ہیں جن میں یادداشت کی کمی، فیصلے کرنے کی صلاحیت میں کمی، انفیکشن اور موٹاپے میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ عام طور پر لوگ ان خطرات کو جانتے ہیں، لیکن ان کو نظر انداز کرتے ہیں۔ جب بھی ہمیں کسی کام کے لیے اضافی وقت درکار ہوتا ہے تو پہلی قربانی نیند کی ہوتی ہے۔

کم سونے والے اور زیادہ کام کرنیوالے اکثر لوگ بیماریوں کا شکار ہوکر جلد مر جاتے ہیں،ایسے افراد کو بلڈ پریشر،دل اور شوگر کی بیماریاں ہوجاتی ہیں،کئی لوگ دماغی طورپر بھی ڈسٹرب ہوجاتے ہیں۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer