بنوں کے فرعون کا مقابلہ کرنے کیلئے یہاں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے: عمران خان


بنوں (24 نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ بنوں کے فرعون کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو مولانا کہنا مولانا کی توہین سمجھتا ہوں کیونکہ ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا مولانا نہیں ہو سکتا۔

 بنوں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اکرم خان درانی کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ 2013 سے پہلے ان کی کیا حیثیت تھی لیکن آج کروڑ پتی بن گئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ جب اکرم خان درانی آپ کے پاس آئے تو ان سے پوچھنا کہ آپ حکومت میں تھے تو قرضہ 14 ہزار ارب روپے سے 27 ہزار ارب روپے ہو گیا تو کدھر گیا یہ قرض اور قوم کیسے اتارے گی اس قرضے کو۔

قوم غریب ہو گئی ہے لیکن جو نواز شریف اور زرداری کی طرح منی لانڈرنگ کرکے پیسہ باہر لے گئے وہ امیر ہوگئے ہیں۔ بنوں کے لوگوں کے حالات خراب ہوئے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان کے حالات ٹھیک ہوگئے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےجہانگیرترین کو منالیا

عمران خان نے کہا کہ فضل الرحمان کو مولانا کہنا مولانا کی توہین سمجھتا ہوں کیونکہ ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا مولانا نہیں ہو سکتا۔ فضل الرحمان ایک مقناطیس ہے جدھر طاقت ہوتی ہے وہاں جا کر جڑ جاتے ہیں اور کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ضرور بنتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان میں بجلی دوسرے ملکوں سے زیادہ مہنگی ہے۔ جیسے جیسے روپیہ گرے گا اس سے بجلی ، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو تا جائے گا۔ ہم نے کوشش کی پانی سے بجلی بنانے کی اور چار پراجیکٹ لگائے پن بجلی بنانے کے جس سے پہلی دفعہ 74میگاوٹ بجلی پیدا کی۔ اس کے علاوہ تین سو چھوٹے چھوٹے پاور سٹیشن لگائے جس سے چھوٹے چھوٹے گاﺅں کو جہاں کبھی بجلی نہیں تھی بجلی میسرہے۔ 

پڑھنا مت بھولئے: آصف زرداری نے ملک کو حقیقی جمہوریت کی پٹڑی پر ڈالا: مولابخش چانڈیو

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے میرا خواب یہ ہے کہ ایک یتیم بچہ اٹھے اور سرکاری سکول میں جائے جہاں وہ ایسی تعلیم حاصل کرے کے ملک کا سب سے بڑا بزنس مین بن سکے۔

چئیرمین تحڑیک انصاف نے کہا کہ ہمارا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ جو محنت کرے وہ اوپر آئے لیکن اس ملک میں اکرم درانی جیسہ قبضہ گروپ لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتے۔ انکا کہنا تھا کہ کے پی کے حکومت نے 5 سالوں میں 60 ہزار اساتذہ بھرتی کیے، 1000 اسکول بنائے اور ایک لاکھ بچے نجی اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں گئے۔