جسٹس (ر) ناصر الملک نے نگران وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا


اسلام آباد(24نیوز)   نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے وزیر اعظم کا حلف اٹھالیا۔تقریب ایوان صدرمیں ہوئی،  اہم شخصیات نے شرکت کی۔

قومی اورصوبائی اسمبلیاں مدت پوری ہونے کےبعد تحلیل  ہوگئیں، جس کے بعد الیکشن تک اب نگران حکومت ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ صدر پاکستان نے جسٹس(ر) ناصرالملک سے وزیر اعظم کا حلف اٹھوالیا۔ 

تقریب میں اہم شخصیات شریک ہوئیں، جن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سینیٹ کے چیئرمین اور ارکان،سابق کابینہ  وقومی اسمبلی ارکان،  ججز اور مسلح افواج کے سربراہان  شامل تھے۔ناصرالملک عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی کابینہ کی تشکیل کا کام مکمل کریں گے ۔

نگران وزیر اعظم کی وزیراعظم ہاؤس آمد:

حلف برداری تقریب کے بعد نگراں وزیراعظم وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں انہیں پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی۔ٹوئنٹی فور نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم ناصر الملک کا کہناتھا کہ نگران کابینہ کیلئے ضرورت کے مطابق وزرا لیں گے، اس سوال پر کہ نگراں وزیر اعظم آپ کی پہلی ترجیح کیا ہو گی؟ جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے کہا الیکشن کرانے آیا ہوں ، الیکشن کمیشن سے مکمل تعاون کروں گا ،  کوشش کریں گے کہ جلد از جلد اپنی ذمہ داریاں پوری کرلیں۔

گارڈ آف آنر:
اس سے قبل مسلح افواج کے دستے نے سبکدوش وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے سابق وزیر اعظم کو سلامی دی.شاہد خاقان عباسی نے وزیر اعظم ہاؤس کے ملازمین سے الوداعی ملاقاتیں بھی کی۔

نگران وزیر اعظم سے آرمی چیف کی ملاقات:  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے نگران وزیراعظم سے ملاقات کی،  تینوں نے نگران وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی ، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مختصر گفتگو میں کہا کہ اچھے انداز میں نگران وزیراعظم کا تقرر اچھی بات ہے۔

جسٹس (ر ) ناصرالملک پروفائل:

جسٹس (ر) ناصرالملک 17 اگست 1950 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہو ئے، ایبٹ آباد پبلک اسکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا۔ 1977 میں لندن سے بار ایٹ لاءکرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی، 1981 میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991 اور 1993 میں صدر منتخب ہو ئے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک 4 جون 1994 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31 مئی 2004 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 5 اپریل 2005 کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا، جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔ جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔ جسٹس ناصر الملک پاکستان کے 22 ویں چیف جسٹس تھے جو 6 جولائی 2014 سے 16 اگست 2015 تک اس منصب پر فائز رہے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔