نواز شریف کو حاضری سے استثنیٰ مل گیا


اسلام آباد(24نیوز)احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل ملز کے ضمنی ریفرنسز کی سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کردیاگیااور سابق وزیراعظم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف احتساب عدالت میں فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل ملز کے ضمنی ریفرنسز کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مقدمات کی سماعت کی،سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہوئے۔
خواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں،عدالت سے استدعا ہے کہ سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کر دیا جائے، معاون وکیل نے نواز شریف کی دوبارہ حاضری سے استثنیٰ کیلئے درخواست بھی دائر کی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔
سابق وزیراعظم نوازشریف اپنی صاحبزادی مریم نوازکے ہمراہ احتساب عدالت میں پیشی کیلئے مری سے اسلام آباد پہنچے، اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بڑی تعداد احتساب عدالت کے باہر موجود تھی،کارکنوں نے نوازشریف کے حق میں نعرے بازی بھی کی،کارکنوں کی جانب سے ’’میں بھی نواز ہوں‘‘کے نعرے لگائے گئے۔
عدالت نے دونوں ریفرنسز میں مجموعی طور پر 8 گواہوں کو بیانات ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کر رکھا ہے۔
فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں آف شور کمپنیوں جبکہ العزیزیہ سٹیل ملز کی تشکیل کے حوالے سے دستاویزی شواہد کو ضمنی ریفرنسز کا حصہ بنایا گیا ہے،دونوں ضمنی ریفرنسز میں نواز شریف کے ساتھ ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے جو عدم حاضری کے باعث پہلے ہی اشتہاری ہیں۔