’’نوازشریف ہارس ٹریڈنگ کے استاد، اپنے لیے ملک کو خطرہ میں ڈالنا چاہتے ہیں‘‘


اسلام آباد (24 نیوز) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف اپنے لیے ملک کو خطرہ میں ڈالنا چاہتے ہیں اور وہ میں نہیں تو کچھ نہیں کے اصول پر چل رہے ہیں۔

زرداری ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کا کام جلسے کرنا نہیں ہوتا، عوام کو کیوں نکالا اور پاناما سے کوئی غرض نہیں، عوام غربت، بیروزگاری کا خاتمہ اور اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا کے علاوہ بہت مسائل ہیں، ملک معاشی بحران آرہاہے، خارجہ پالیسی بھی بحران کا شکار ہے، پاکستان میں سنجیدہ مسائل ہیں، ہمیں کسی ایک شخص کی پرواہ نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: کرشنا کماری، تھر ننگر پارکر کی سینیٹ کی پہلی خاتون امیدوار

پارٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ نوازشریف ہارس ٹریڈنگ کے استاد ہیں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے، وہ اپنے لیے ملک کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں، وہ ایک اصول پر چل رہے ہیں کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ احتساب صرف پیپلزپارٹی کے لیے شروع ہوا، اب باقی سب پریشان ہیں کہ ان کے ساتھ کیوں ہورہا ہے۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نوازشریف ملک میں واحد انسان ہیں جو تین بار وزیراعظم بنے، ان کی حکومت کو پانچ سال ہونے والے ہیں لیکن انہوں نے پارلیمان کو مضبوط کرنے کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے سینیٹ اور اسمبلی میں کتنی حاضری یقینی بنائی؟ اب وہ عدالتی اصلاحات کی بات کررہے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ نوازشریف کو جمہوریت کی مضبوطی اور عدالتی اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں، ہم عدالتی اصلاحات کی بات کرتے آئے ہیں، ہم پچھلے چار سال سے کہتے آرہے ہیں لیکن اب یہ تین ماہ میں کیا کریں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی حکمت عملی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح بچ جائیں جب کہ انہوں نے ایک وزیراعظم کی شہادت پر مٹھائیاں بانٹیں اور شہید بی بی کے خلاف جعلی کیسز بنائیں۔

ضرور پڑھئے: چیف جسٹس آف پاکستان نے دہری شہریت کے حامل افسران کو ڈیڈ لائن دے دی 

انہوں نے کہا کہ ہم سب کے لیے ایک قانون چاہتے ہیں، کہیں پر کوئی امتیاز نہیں چاہتے، نوازشریف ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں کوئی اعتماد نہیں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کوشش ہے سینیٹ میں اچھی کارکردگی دکھائیں، انتخابات وقت پر ہوں گے، ہم عوام کے مسائل اور یہ لوگ مجھے کیوں نکالا کے ساتھ لڑیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پانچ سال حکومت میں رہے تب پی آئی اے کی نجکاری کیوں نہیں کی؟ اب وزیراعظم کی اپنی ایئرلائن ہے اس لیے وہ پی آئی اے بیچ رہے ہیں۔