ملک بھر میں تیسرے روز بھی احتجاج،سڑکیں بند،عوام پریشان


اسلام آباد( 24نیوز )سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کیے جانے کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہونے والے احتجاج اور آج شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آج ملک کے بیشتر شہروں میں تعلیمی ادارے بند اور امتحانات ملتوی کردیئے گئے، جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور گجرانوالہ میں موبائل فون سروس بھی صبح 8 بجے سے مغرب تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے اگرچہ سڑکوں پر لوگوں اور ٹریفک کا رش کم ہے، تاہم پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے اور جگہ جگہ سڑکیں بلاک کیے جانے کی وجہ سے دفاتر جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

احتجاج میں دیگر مذہبی جماعتیں بھی شامل
تین روز سے جاری مظاہروں ،دھرنوں میں دیگر مذہبی جماعتیں ،تاجر تنظمیں بھی شامل ہوگئیں،ملک بھر میں احتجاج کیا گیا،لاہور،کراچی ،اسلام آباد،ملتان سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کیئے گئے،نواب شاہ میں جماعت اسلامی، جے یو آئی, مجلس تحفظ ختم نبوت و دیگر مذہبی تنظیموں کی جانب سے کشمیر چوک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔

پنجاب،سندھ اور خیبر پختونخوا میں تعلیمی ادارے بند ہیں ، پنجاب میں ثانوی تعلیمی بورڈز کے تحت بارہویں جماعت کے آج ہونے والے پرچے ملتوی ،وفاقی تعلیمی بورڈ کے تحت پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی کینسل کر دئیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی جلسوں کی وجہ سے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے سکولز بندرکھنے کا اعلان کر دیا، قائم مقام صدر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن عبدالوحید خان کا کہنا تھاکہ خراب حالات اور بند راستوں کے باعث طلبا سکول نہیں پہنچ پائیں گے جبکہ وفاقی وزیر تعلیم کی زیر صدارت اہم اجلاس میں وفاقی دارالحکومت کے تمام تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔


ترجمان وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سرکای تعلیمی ادروں میں کل چھٹی نہیں ہوگی، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے کر چھٹی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وزارت تعلیم نے سکیورٹی صورتحال سے متعلق کمشنر اسلام آباد سے بھی رابطہ کیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ صوبہ کے تمام ثانوی تعلیمی بورڈز کے تحت بارہویں جماعت کے آج ہونے والے پرچے ملتوی کردیے گئے جن کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ملک میں پٹرول کی قلت پیدا ہوگئی

 راستوں کی بندش کے باعث شہرمیں دو روز سے پٹرول کی سپلائی پٹرول پمپس تک نہیں پہنچ سکی جس سے لاہور میں پٹرول بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ پٹرول پمپس کے پاس ایندھن کا سٹاک بھی مختصر رہ گیا۔

 جنرل سیکرٹری پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن خواجہ عاطف نے کہاکہ ایک سے دو روز میں پٹرول پمپس کو سپلائی نہ مل سکی تو پٹرول کی قلت پیدا ہوجائے گی۔ کل 315 پٹرول پمپس کے پاس ایک سے دو روز کا سٹاک باقی ہے ،  حکومت پٹرول کی سپلائی بحال کرنے کیلئے اقدامات کرے۔دوسری جانب پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر شہری پریشان ہیں۔ شہرکے بعض مقامات پر پٹرول نایاب ہوگیا۔ شہری پٹرول کی تلاش میں پمپوں پر خوار ہورہے ہیں

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے متوسط طبقے پر بوجھ ڈالا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔حالات خراب ہونے کی سزاانہیں کیوں مل رہی ہے؟ وہ ایک سے دوسری جگہ جانے کیلئے مشکلات کاشکارہیں۔پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کاپہیہ رُ ک گیا۔

مین شاہراہوں پر دھرنوں کی وجہ سے سڑ کیں بند
ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے،مین شاہراہوں پر دھرنوں کی وجہ سے سڑ کیں بند ہیں جبکہ ٹریفک جام ہے ،مسافر موٹروے،جی ٹی روڈ اور دوسری شاہراہوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔
کراچی کے علاقے تین ہٹی میں مظاہرین نے دھرنا دیا ہوا ہے جس میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے،بلدیہ ٹاو¿ن ، شارع فیصل، سٹار گیٹ، نمائش چورنگی، الآصف سکوائر سہراب گوٹھ اور سرجانی ٹاون فور کے چورنگی میں اس وقت دھرنا جاری ہے۔ بلدیہ ٹاو¿ن جانے والی سڑک بند ہے جبکہ شیر شاہ سے بلدیہ جانے والی ٹریفک کا رخ لیبر سکوائر کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔


پشاور میں رنگ روڈ پر واقع پیر زکوڑی پل پر مظاہرین نے راستہ بند کر رکھا ہے اور ان کا دھرنا جاری ہے، تمام نجی تعلیمی ادارے سکیورٹی کے پیش نظر بند ہیں۔ مختلف تنظیموں نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ پشاور پولیس نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

لاہور
لاہور کا فیروز پور روڈ چونگی امر سدھو،اچھرہ ،قرطبہ چوک پر بند ہے،پنجاب اسمبلی کے سامنے مرکزی دھرنا جاری ہے،لاہور کے داخلی راستے بند ہے،موٹروے پر ٹریفک کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں،شاہدرہ،موہلنوال،بتی چوک،کالا شاہ کاکو انٹر چینج پر گاڑیاں رکی ہوئی ہیں۔
احتجاجی مظاہرین کی جانب سے دھرنے کے باعث کاہنہ فلائی اوور ٹریفک کے لئے بندکردیا گیا ہے،جنرل ہسپتال راونڈ اباﺅٹ اور اس سے ملنے والے روڈز پر ڈنڈا بردار موجود ہیں،جنہوں نے راستے بند کررکھے ہیں۔

لاہور شہرکی اہم شاہراؤں فیصل چوک مال روڈ،چونگی امرسدھو،امامیہ کالونی،ملتان روڈچوک سمیت دیگرٹریفک کیلئے بند,ٹریفک پولیس متعددمقامات پرمتبادل راستوں سے ٹریفک گزارنے میں مصروف ہیں-

ٹریفک پولیس کے مطابق بابوصابوچوک،پکامیل ،ملتان روڈچوک ،شاہکام چوک،مل پلی، بھٹی چوک ،شاہدرہ سے امامیہ کالونی پھاٹک دونوں اطراف سے بند ہیں,داتا صاحب،قرطبہ چوک،مزنگ چوک ،فیصل چو ک مال روڈ ،چونگی امرسدھواور کاچھا موڑ بند ہے۔سی ٹی او لیاقت ملک کاکہناہے کہشہریوں کو متبادل راستوں پر ڈائیورٹ کیا جا رہا ہے-

دوسری جانب متعددسڑکوں پرٹریفک چل رہی ہے,سی ٹی اوکے مطابق کینال روڈ،جیل روڈ ،مین بلیوارڈگلبرگ اورڈیفنس کی تمام روڈٹریفک کیلئے کھلی ہیں, سیکرٹریٹ جانیوالی ٹریفک کوچائینہ چوک سےمال روڈ بھجوایاجارہاہے۔ چائنہ چوک ،شادمان،انڈرپاس ٹریفک کیلئے کھلاہے،فیروزپورروڈ شمع سےغازی روڈ تک ٹریفک کیلئے کھلاہے۔ جی ٹی روں،علامہ اقبال روڈ،مولاناشوکت علی روڈکھلاہے،ہمدردچوک ٹاؤن شپ چوک ٹریفک کیلئے کھلاہے۔ بیگم کوٹ ،سگیاں،آؤٹ فال روڈ ٹریفک کیلئے کھلاہے۔

ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ بلاک روٹ تفصیلات

مظاہرین کیخلاف آپریشن،وزیر اعلیٰ پنجاب بھی بول پڑے
مظاہرین کے خلاف آپریشن کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پولیس کو گرین سگنل دے دیا،ان کا کہناتھا کہ قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا،قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی،شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، ریاست یہ ذمہ داری فرض سمجھ کر ادا کرے گی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ شہریوں کے روز مرہ کے معمولات میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،کاروبار زندگی کو رواں دواں رکھنے کیلئے ہرممکن اقدام کیا جائے،ٹریفک کی بندش سے شہریوں کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے، ٹریفک کے متبادل روٹس کی تشہیر کی جائے تاکہ شہریوں کی مشکلات کم ہوسکیں، قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

ہنگو میں مظاہرین نے پتھراﺅ کرکے پریس کلب کے شیشے توڑ دئیے ہیں،سرکاری دفاتر کی جانب نقل و حرکت پر ڈسٹرکٹ لیوی اہلکاروںنے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے، فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،علماءکرام خود سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی تاکید کرتے رہے، فائرنگ کے بعدپولیس اور علماءکرام ملکر مظاہرین کو منتشر کر دیا۔