رسول پاکﷺکی توہین کسی کے لیے قابل برداشت نہیں:چیف جسٹس

رسول پاکﷺکی توہین کسی کے لیے قابل برداشت نہیں:چیف جسٹس


اسلام آباد( 24نیوز )سپریم کورٹ نے نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کے لیے حکومت کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنا فیصلہ نہیں بدل سکتی،میں اور پورا بینچ عاشق رسولﷺ ہے،اگر کسی کے خلاف کیس بنتا ہی نہیں تو سزا کیسی؟؟
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل انور منصور خان کی جانب سے نئے آئی جی کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت کی،اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ امن وامان کی صورتحال کے باعث اسلام آباد میں کسی دوسرے آئی جی کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس نے کہا نئے آئی جی کے بجائے آپ کسی کو ایڈیشنل چارج دے دیں۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریاست امن و امان کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے، نبی پاکﷺ کے ناموس پر ہم بھی اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں،رسول پاکﷺکی توہین کسی کے لیے قابل برداشت نہیں۔
چیف جسٹس نے آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فیصلہ کلمے سے شروع کیا جس میں دین کا سارا ذکر بھی کیاہے، ملک کے حالات کو دیکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، صورتحال نازک ہے،مستقل آئی جی جان محمد ہی ہوں گے۔