’’پنجاب میں جان بوجھ کر ریکارڈ کو آگ لگوائی گئی‘‘

’’پنجاب میں جان بوجھ کر ریکارڈ کو آگ لگوائی گئی‘‘


24نیوز : ہاوسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ پنجاب میں جان بوجھ کر ریکارڈ کو آگ لگوائی گئی ہے۔

 تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں ہاوئسنگ سوسائٹیز کے آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں جان بوجھ کر ریکارڈز کو آگ لگوائی گئی، جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں بھی یہی ہے سیکرٹری رجسٹرار ہاوسنگ سوسائٹی بھی عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہیں معلوم ہے کہ ایک ایک پلاٹ پر 15 ، 15 لوگ دعویدار ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے سیکرٹری سے سوال کیا کہ کیا ماڈل بائی لاز کا اطلاق ہو چکا جس پر سیکرٹری کا کہنا تھا کہ جی ہاں، ہو چکا، چیف جسٹس دوران مکالمہ سیکرٹری سے بولے کہ الاٹمنٹ لیٹر کی وجہ سے حکومت اربوں روپے سے محروم ہورہی ہے،کوئی جائیداد بغیر رجسٹریشن کے منتقل نہیں ہوسکتی،جائیداد منتقلی کا سارا پیسہ سوسائٹیاں کھارہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئے اے عدالت کے حکم کے مطابق آڈٹ کر رہا ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری سے استفسار کیا کہ کیا ایچی سن کالج کی ہاوسنگ سوسائٹی کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ جس پر سیکرٹری ہاوئسنگ پنجاب بولے کہ جی کی جا رہی ہے۔ عدالت سے سیکرٹری کو حکم دیا کہ دو چار سوسائٹیوں کا فرانزک آڈٹ کر کے دیا جائے۔ جبکہ ایف آئی اے کو حکم دیتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے فرانزک آرڈر پر پیش رفت سے آگاہ کرے، کیس کی سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔