فاطمہ ثریا بجیا کی88 ویں سالگرہ، گوگل کا خراج عقیدت

فاطمہ ثریا بجیا کی88 ویں سالگرہ، گوگل کا خراج عقیدت


24نیوز : پاکستان ٹیلی وژن کے لازاول ڈرامہ نویس اور افسانہ نگار فاطمہ ثریا بجیا  کی آج 88 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے، آج بھی شمع، افشاں اور عروسہ کی کہانیاں فاطمہ ثریا بجیا  کی یاد دلاتی ہیں۔ گوگل   نے  خراج عقیدت   پیش کیا۔

پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار اور ادیبہ فاطمہ ثریا بجیا یکم ستمبر 1930 کو بھارتی شہر حیدرآباد کے ضلع رائچور میں پیدا ہوئیں اور قیام پاکستان کے فوری بعد اپنے خاندان کے ساتھ کراچی میں سکونت اختیار کی۔محترمہ فاطمہ ثریا بجیا نے باقاعدہ سکول کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ادب اور تحریر کی دنیا میں نام پیدا کیا، فاطمہ ثریا بجیا نے ٹیلی وژن کے علاوہ ریڈیو اور اسٹیج کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے۔جب کہ ان کے معروف ڈراموں میں،عروسہ، شمع، انا اور افشاں سمیت متعدد ڈرامے شامل ہیں۔

انہوں نے طویل دورانیے کا پہلا ڈرامہ ’ مہمان‘ لکھا جب کہ انہوں نے بچوں کے لیے بھی ادبی پروگرام تحرير کیے۔ بجیا نے اپنے ڈراموں میں وسیع خاندانوں میں خونی رشتوں کے درمیان تعلق اور رویوں کو انتہائی خوب صورتی سے بیان کیا۔1997میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا، جاپان نے بھی انہیں اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزاز عطا کیا۔

 فاطمہ ثریا بجیا تہذیب، شفقت اور خلوص کا پیکر تھیں، علم وادب کے لئے فاطمہ ثریا بجیا کی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے۔ان کے بھائیوں میں احمد مقصود اور انور مقصود، بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق بھی بہت مشہور ہیں، بجیا نے صوبائی حکومت سندھ میں مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں۔