پی ٹی آئی حکومت نے پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کردیا

پی ٹی آئی حکومت نے پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کردیا


اسلام آباد(24 نیوز) پی ٹی آئی حکومت نے پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کردیا۔ ماضی میں کس حکومت نے کب کب ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دی?

ماضی کی تمام حکومتیں ٹیکس ایمنسٹییز جاری کرتی رہی ہیں 1958 سے اب تک ایک درجن سے زائد ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز جاری کی گئی ہیں ۔ سال 2000 تک ہر دس سال بعد ایک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی جارہی تھی۔ 1999 میں سابق سدر پرویز مشرف نے غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی۔  ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت ملک بھر میں ٹیکس سروے کیا گیا ایف بی آر افسروں کے ساتھ فوجی افسر بھی سروے میں شریک تھے۔ ٹریڈرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی یہ اسکیم بری طرح ناکام ہوگئی ۔

2008 سے اب تک متعدد بار ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی گئی۔ 2010 میں بھی اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی گئی کالے دھن کو دو فیصد ٹیکس پر سفید کرنے کی اجازت دی گئی اسکیم کے تحت صرف ڈھائی ارب روپے کا دھن سفید ہوسکا اور اسکیم بری طرح ناکام ہوگئی،  پیپلزپارٹی کے دور میں 50 ہزار نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو قانونی قرار دینے کی اسکیم جاری کی گئی۔

مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں تین ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز جاری کی گئیں، 2013 میں مخصوص سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو ذرائع آمدن بتانے کی چھوٹ فراہم کی گئی۔ 2015 میں تاجروں اور دکانداروں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی گئی۔ ایف بی آر نے تاجروں کو ذرائع آمدن بتانے کی چھوٹ فراہم کی ۔

تیسری ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بے نامی جائیدادوں کو قانونی قرار دینے کی اجازت دی گئی، اسکیم کے تحت شرح ٹیکس 5 سے 10 فیصد مقرر کی گئی 30 جون 2018 کو ختم ہونیوالی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کو 120 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔

Malik Sultan Awan

Content Writer