غریب آدمی چلغوزہ کب کھائے گا؟

مناظرعلی

 غریب آدمی چلغوزہ کب کھائے گا؟


دفتر میں کام کے دوران حالات حاضرہ اورمہنگائی وبیروزگاری پرہلکی پھلکی گفتگو وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے،پھرایک دم کوئی بریکنگ نیوزآنے کے بعدایک سنجیدہ وقفہ لیناپڑتاہے،یوں لگتاہے جیسے ڈرامے کی ایک قسط ختم ہوئی ہے یاپھردرمیان میں کسی سنجیدہ موضوع پرکمرشل چل رہاہو۔وقفے کے بعدپھراسی موضوع پرگفتگو،بحث اوردلائل کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے،یوں کرتے کرتے کام بھی ہوتارہتاہے اورڈیوتی کادورانیہ پوراہوجاتاہے۔صبح سے شام ہوتی ہے اورپھررات کے بعداگلی صبح،ایک سرکل کے گردزندگی کاپہیہ چل رہاہے،ہرطبقے کااسی طرح ہی چل رہاہے،صرف اتنا ہی ہے کہ مصروفیات اور گفتگو کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔جہاں مہنگائی کے عفریت کاسایہ ہووہاں خود کو خوف کے پہاڑ کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رکھنا بھی ہمت کی بات ہے اورمیں توآج کے دورمیں زندہ رہنے والے عوام کو سلام عقیدت پیش کرتاہوں،ورنہ بعض بزدل توگھبراکر خودکشی کرلتیے ہیں اورزندگی کاچراغ گل کرکے لواحقین کی زندگیوں میں بھی سوگ کی چادر تان جاتے ہیں۔

عموماموسم بدلنے کے ساتھ کچھ رپورٹس خاص طورپرتیارکرناپڑتی ہیں،جیسا کہ ملبوسات کی خریداری،گرم یاپھرٹھنڈے مشروبات کااستعمال۔ یہ چندروزپرانی بات ہے جب سردی کاآغاز ہوا تومختلف موضوعات پررپورٹس بنانے کاسلسلہ شروع ہوگیا اورکرتے کرتے نام آگیا محترم المقام عزت مآب جناب چلغوزہ صاحب کا۔اس خوش قسمت خشک پھل کانام عزت سے اس لیے لے رہاہوں کہ آج کل جیسے غریب کی عزت کا رواج کم ہورہاہے اسی طرح سستی چیز کی بھی کوئی عزت نہیں کرتا،مہنگی چیز،برینڈڈاشیا کوعزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے اورکھانے اوراستعمال کرنے والے کی بھی معاشرے کی نظرمیں خاصی عزت ہے،اگرآپ چلغوزہ کی قیمت سے واقف ہیں توآپ کواندازہ ہوچکاہوگا کہ چلغوزے کوصرف چلغوزہ نہیں کہنابلکہ عزت واحترام کے جتنے بھی القابات ہیں ان سے نوازتے جائیں ورنہ جس طرح آپ چلغوزے کوہاتھ نہیں لگاسکتے اس طرح چلغوزہ بھی آپ کے غربت زدہ ہاتھوں سے پکڑکرفاقہ زدہ منہ سے گزرکربھوکے پیٹ میں جانا پسند نہیں کرے گا اوراگرآپ کاکوئی امیر دوست ہے کہ چلغوزے جس کے آگے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے یاپھر بکھرے پڑے ہیں توپھرممکن آپ مال مفت سمجھ کر اسے کھاتے جائیں مگریہ ذہن میں ضرور رکھنا کہ امیر بھی آپ کے چلغوزے کھاتے وقت کونوٹ کریں گے اورعین ممکن ہے کہ چلغوزوں کی مقداربھی نوٹ کرلیں اور بوقت ضرورت اس کاحساب برابرکرلیں۔

امیروں کی محفل میں چلغوزہ آپ کے پیٹ تک جیسے تیسے کرکے پہنچ بھی گیا توہضم کرناشایدآپ کے بس میں نہ ہو لہذااس لگژری پھل کاذکر کرکے ہی ذہنی،جسمانی،روحانی اورقلبی سکون حاصل کرلیں مگریاد رہے کہ جب آپ اس ساتویں آسمان کے قریب پہنچے خشک پھل کاذکر کریں گے توممکن ہے کہ کھانے کوبھی دل کرے پھرآپ پتہ نہیں کیا کیا جتن کریں،عین ممکن ہے کہ اس خواہش ناتمام کی تکمیل میں آپ کسی جرم کے بھی مرتکب ٹھہریں یعنی چھینا چھپٹی،چوری اورڈکیتی کربیٹھیں اورپھرچلغوزہ کھانے کی بجائے جیل کی ہوا کھاتے پھریں۔یہ میں ایسے ہی نہیں کہہ رہا،نہ یقین آرہاتویہ خبرپڑھیں جوگزشتہ دنوں سوشل میڈیا پرخاصی گردش کرتی رہی۔

جنوبی وزیرستان وانا مسلح نقاب پوش رات گئے حسن گودام کی دیوار پھلانگ کر اندرداخل ہوئے اور وہاں موجود چوکیدار اور دیگر افراد پر اسلحہ تان کر یرغمال بنالیا۔ ڈاکوؤں نے نہ صرف اسلحہ کے زور پر نقدی اور موبائل چھینے بلکہ گودام سے 23 بوری چلغوزے بھی لوٹ کر ڈبل کیبن گاڑی میں رکھے اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔متاثرہ تاجروں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ لوٹے گئےچلغوزوں کی قیمت ایک کروڑ بیس لاکھ بنتی ہے۔ تاجر نبوت خان اور ان کے دیگر ساتھیوں نے سٹی تھانہ وانا میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر کٹوادی۔پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور ڈاکوؤں کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔ گودام مالکان نے دھمکی دی کہ اگر ڈاکوؤں کو گرفتار کرکے لوٹا گیا مال واپس برآمد نہ کیا گیا تو ہم وانا بائی پاس روڈ بند کردیں گے۔

چلغوزہ کھانے سے انسانی جسم کوخاصی تقویت مل سکتی ہے اس لیے غریب آدمی کابھی دل کرتاہے کہ وہ دل ودماغ کوطاقت بخشنے کے لیے چلغوزہ کھائے مگریہ خوراک کالازمی جزو نہیں لہذادال روٹی اگرمیسر ہے توپھر صبروشکرکرکے زندہ رہیں،چلغوزہ کی خواہش نہ کریں،ممکن ہے عنقریب سب کچھ سستاہوجائے اورچلغوزہ ہرشخص کے ہاتھ میں ہو،ہرشخص کے حلق سے نیچے اترے اورفاقہ زدہ پیٹ کی بھوک مٹائے۔۔دل ہی دل میں امید رکھیں کہ امید پردنیاقائم ہے۔یہ سوال زبان پرلانے کی ضرورت نہیں کہ غریب آدمی چلغوزہ کب کھائے گا؟

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔