ماضی کے کامیاب فلمساز کی بیٹی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

ماضی کے کامیاب فلمساز کی بیٹی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور


اسلام آباد(روزینہ علی )میرے درد کی کوئی دوا نہیں ، پاکستان کو کئی کامیاب فلمیں دینے والے ایم اے رشید کی بیٹی رافعہ رشید کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،نازوں سے پلنے والی رافعہ رشید در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔

پاکستان کے مشہور و معروف ہدایتکار، فلمساز، مکالمہ نگار، اور کئی خوبصورت گیتوں کے مالک ایم اے رشید نے فلم انڈسٹری میں منفرد کام سے جان ڈالی لیکن آج انکی اپنی لاڈلی بیٹی رافعہ رشید بے چارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، رافعہ رشید سے اپنوں نے منہ موڑا تو انہوں نے ایک چھوٹا سا ڈھابہ کھول لیا جہاں مختلف طعام بیچ کر نظام زندگی چلا رہی ہیں۔

پر تعیش زندگی گزارنے والی رافعہ رشید والد کے انتقال کے بعد غربت کی زنجیروں میں جکڑ گئی ، ڈھابہ چلانے کے لیے رافعہ رشید گھر سے کھانا بنا کر لاتی ہیں تاکہ گھر کی معیشت کا پہیہ چلا سکیں۔

بائی پولر ڈس آرڈر کی شکار بیٹی اور نواسے کا سہارا بننے والی رافعہ رشید بیٹی کی نفسیاتی بیماری پر تڑپ اٹھی ، میڈیکل رپورٹس دکھاتے اور زارو قطار روتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے گزارش کی کہ خدارا نفسیاتی مرض کی شکار بچیوں کے لیے بھی ایک پناہ گاہ بنائیں جہاں انہیں تحفظ میسر ہو۔

رافعہ رشید نے چائے بناتے ہوئے ماضی کے کئی دریچے کھولے اور سنہری یادوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ خوبصورت یادیں ہی آج انکا واحد سہارا ہیں جو انہیں ٹوٹنے نہیں دیتی کیوں کہ اپنے تو سب کھو گئے ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer