چاکلیٹ کھانے کے شوقین افراد کیلئے ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

چاکلیٹ کھانے کے شوقین افراد کیلئے ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی


لندن(24نیوز) چاکلیٹ کھانے کے شوقین افراد کیلئے بری خبر ہے کہ تیس سال بعد یہ افراد اپنا شوق پورا نہیں کرسکیں گے کیونکہ موسم کے انتہائی گرم ہونے سے چاکلیٹ کے پودے(کاکاﺅ) ختم ہو جائیں گے۔
ڈیلی میل آن لائن کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے باعث کاکاﺅ کے پودے اس وقت مشکل حالت میں ہیں، تیس چالیس سال میں موسم اتنا گرم ہوجائے گا کہ کاکاﺅ کے پودوں کو اپنی زندگی برقرار رکھنا ناممکن ہوجائے گی،یہ پودے 20ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت کرتے ہیں،اس سے کم درجہ حرارت پر بہترین نشوونما پاتے ہیں۔
امریکی نیشنل اوشنک ماحولیاتی انتظامیہ کے مطابق آئندہ تیس سال میں عالمی درجہ حرات 2.1ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ ہے جس سے چاکلیٹ انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا-2050ءمیں موسمی تبدیلی سے ہزاروں چاکلیٹ کے پودوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،اس وقت سب سے زیادہ کاکاﺅکے پودے گھانا کے جنگلات میں ہیں، چاکلیٹ کی تیاری کیلئے سب سے زیادہ خام مال بھی یہیں سے مہیا کیا جاتا ہے۔
یاد رہے پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بچے اور بڑے چاکلیٹ کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں،امریکہ کیلئے یہ ایک منافع بخش انڈسٹری ہے،ایک اندازے کے مطابق مغرب میں ایک شخص سال میں اوسطاً 286چاکلیٹ بار کھا جاتا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان درختوں کو بچانے کیلئے عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے،تمام ممالک کو مل کرتیزی سے تبدیل ہوتے موسم کو روکنا ہوگا۔