انجکشن لگا بھینسوں کا دودھ انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن گیا


اسلام آباد(24نیوز) انجکشن لگا بھینسوں کا دودھ انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن گیا،ایسے دودھ میں کینسر کا انکشاف ہوا ہے جو کروڑوںپاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کینسر زدہ بھینسوں کا دودھ خطرناک قرار دیتے ہوئے دودھ کی پیداوار بڑھانے والے انجکشن پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کردی ہے،مقامی میڈیاکے مطابق اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے حکام نے بریفنگ دی۔ڈائریکٹر لائیو سٹاک پنجاب نے بتایا کہ دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے لگائے جانے والے بوسٹن انجیکشن سے بھینسوں کو کینسر ہوجاتا ہے جس سے وہ مر رہی ہیں، بچے اور بڑے کینسر زدہ بھینسوں کا دودھ پی رہے ہیں، یہ خطرناک صورتحال ہے، دیگر صوبوں نے اس انجکشن پر پابندی لگائی ہے لیکن سندھ نے حکم امتناعی لے لیا۔ارکان کمیٹی نے دودھ بڑھانے کے لیے لگائے جانے والے بوسٹن انجکشن پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کردی۔
کمیٹی رکن رانا افضل نے کہا کہ سپریم کورٹ پانی کے مسئلے پر نوٹس تو لے رہی ہے لیکن خطرناک دودھ کے مسئلے پر کیوں توجہ نہیں دی جارہی، سندھ حکومت کہاں ہے اور کیا کررہی ہے۔ اقبال محمد علی نے کہا کہ آپ سندھ حکومت کی بات کرتے ہیں، سندھ میں تو ایک سڑک بنتے ہی ٹوٹ جاتی ہے۔ڈائریکٹر لائیو اسٹاک پنجاب نے بتایا کہ بوسٹن انجیکشن کی رجسٹریشن مجرمانہ فعل ہے، اس کی تحقیقات کرائی جائیں تو بہت سی چیزیں سامنے آئیں گی، کانگو وائرس والے ممالک سے پاکستان میں گوشت آتا ہے اور پکڑا جاتا ہے لیکن پھر استعمال بھی ہوتا ہے، پاکستان میں کوئی کھانا فارملین کے بغیر نہیں ہے جو کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل ہے، لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق تمام ڈبہ پیک دودھ میں فارملین موجود ہے اور یوریا کھاد اور وے پاوڈر ملایا جاتا ہے۔
ڈائریکٹر سندھ لائیو اسٹاک نے کہا کہ سندھ کے پاس ویٹرنری ریگولیٹری نظام موجود ہی نہیں ہے اور لیبارٹری ہے نہ سہولیات، جبکہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبہ سندھ کو اختیارات نہیں ملے۔
واصح رہے سپریم کورٹ نے کھانے پینے کی ناقص اشیاءپر نوٹس لے رکھا ہے،چیف جسٹس نے مارکیٹ میں فروخت ہونیوالے وائٹنر پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔