ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بے بس،سپریم کورٹ نے دوا ساز کمپنی کے مالک کو طلب کرلیا

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بے بس،سپریم کورٹ نے دوا ساز کمپنی کے مالک کو طلب کرلیا


اسلام آباد(24نیوز) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی جعلی ادویہ ساز کمپنی کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئی،سپریم کورٹ نے کمپنی کے مالک کو طلب کر لیا،چیف جسٹس بولے کہ آخر یہ بندہ ہے کون؟ اس کو دیکھنے کیلیے مشتاق ہوں،ممکن ہے دیکھ کر مقدمہ واپس لے لوں۔

تفصیلات کیمطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کے دوران سی ای او ڈریپ نے عدالت کو بتایا کہ ریاست چار سال سے بے یار و مددگار ہے۔۔ کمپنی کا مالک اتنا طاقتور ہے کہ ہمارے افسران بھی کمپنی کے مالک سے ڈرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ جعلی ادویات بنانے والا یہ بندہ ڈریپ کے قابو میں کیوں نہیں آرہا؟ کمپنی جنسی ادویات بھی بناتی ہے، ڈریپ حکام نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کیخلاف ایکشن لیں تو نیب اور ایف آئی اے والے متحرک ہو جاتے ہیں، کمپنی ملک کا قریبی رشتہ دار ڈی آئی جی پولیس رفعت مختار کارروائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

چیف جسٹس کہنے لگے آخر یہ بندہ ہے کون؟ میں اس کو دیکھنے کیلیے مشتاق ہوں، ڈریپ اس شخص سے ڈر گیا ہے،ممکن ہے اس کو دیکھ کر میں بھی مقدمہ واپس لے لوں۔۔سپریم کورٹ نے مبینہ جعل ساز کمپنی کے مالک محمد عثمان اور ڈی آئی جی راجہ رفعت مختار کو طلب کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔