نواز شریف کا راستہ روکنے والے نہیں روک سکے: مشاہد اللہ خان


کراچی(24نیوز) وفاقی وزیر ماحولیات مشاہد اللہ خان نے کہا ہے  کہ نواز شریف کا راستہ روکنے والے نہیں روک سکے۔  لوگوں کو اپنی اپنی حدود میں رہنا پڑے گا۔ ججز سے کہتا ہوں آپ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔ آپ ہمارا کام اپنے ہاتھ میں لیں گے تو ہمیں قانون سازی کرنا پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔ قرض وصولی کے معاملے پر توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وزیر مملکت خزانہ رانا افضل نے کہا کہ حکومت کسی کا قرضہ معاف نہیں کرتی۔

  بینک اپنے معاملات خود چلاتے ہیں۔ حکومت نے قانون سازی کر کے بینکوں کے اختیارات میں اضافہ کیا۔ جان بوجھ کر قرض معاف کرانا جرم ہے۔ ایسے کیسز میں نیب کاروائی کرسکتا ہے۔

 ہائیکورٹس اور عدالتوں میں بینکوں کے 50 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ بینکوں کا پیسہ آسانی سے معاف ہو جاتا ہے۔ حکومتی رکن رانا محمد حیات نے کہاکہ یہاں کروڑوں کے قرضے سیاسی حکومتوں نے معاف کیے۔

 وزیرمملکت نے کرپٹ بیوروکریسی کا لکھا ہوا بیان ایوان میں پڑھ لیا۔ چیف جسٹس عوام کو پینے کے لیے میٹھا پانی لانا چاہتے ہیں۔ اگرلوٹا ہوا پیسہ واپس آجائے توسب کومیٹھا پانی ملے گا۔

حکومتی رکن ران احیاست نے اپوزیشن جماعتوں کومعاف کرائے گئے قرضے واپس کرانے کیلئے قانون سازی کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ جواس بل کی حمایت نہ کرے عوام اسے ووٹ نہ دیں۔  اسپیکرنے معاف کرائے گئے قرضوں کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا اورہدایت پندرہ دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ارکان نے ایوان میں احتجاج کیا۔ اوراضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ رانا محمد حیات نے کہاکہ وزیر مملکت کی بجائے وفاقی وزیر خزانہ ایوان میں جواب دے۔ راناافضل نے رانا حیات کو وزیرخزانہ بنانے کی تجویز دی تو اسپیکرنے کہا کہ کیا آپ کی تجویز حکومت تک پہنچا دی جائے۔

وفاقی وزیر ماحولیات مشاہد اللہ خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوازف کا راستہ روکنے والے نہیں روک سکے۔ لوگوں کو اپنی اپنی حدود میں رہنا پڑے گا۔ پارلیمنٹ کو اپنا کام کرنے دیں اور عدلیہ اپنا کام کرے۔ مشاہد اللہ خان نے کہا گورننس ایک ادارے نے اپنے ہاتھ میں لے لی تو ملک رک جائے گا۔

 ججز سے کہتا ہوں آپ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں  آپ ہمارا کام اپنے ہاتھ میں لیں گے تو ہمیں قانون سازی کرنا پڑے گی۔ بعد میں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔