معروف شاعر ناصر کاظمی کی 46 ویں برسی


لاہور(245نیوز) اداس جذبوں کو خوبصورت احساسات میں ڈھالنے والے شاعر ناصر کاظمی کی آج 46 ویں برسی ہے۔

لطیف انسانی جذبات کو الفاظ میں بیان کرنے والے شاعر ناصر کاظمی کی چھیالیسویں برسی ہے لیکن ان کا کلام آج بھی تر و تازہ ہے۔   دائم آباد رہے گی دنیا ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا   شاعر ناصر کاظمی کی قبر پر لکھے کتبے پر درج ان کا اپنا شعر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان جیسا شاعر کوئی نہیں ہو سکا۔

 

ناصر کاظمی کے کلام میں پنہاں درد کی کیفیت کو سمجھنے والے انہیں اس دور کا میر کہتے ہیں۔ روایتی غزل کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں جدید رنگ بھی نمایاں ہے۔ وہ محبوب کو دل سے اتر جانے کا احساس بھی دلاتے ہیں اور دل دھڑکنے کا سبب بھی نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔

 

ناصر کاظمی آٹھ دسمبر انیس سو پچیس کو ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے، آزادی کے فوری بعد لاہور آ بسے۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام   برگِ نے   انیس سو چون میں شائع ہوا۔ ان کے دوسرے شعری مجموعوں میں   پہلی بارش  ،   نشاطِ خواب  ،  دیوان   اور   سُر کی چھایا   شامل ہیں۔ وہ دو مارچ انیس سو بہتر کو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔