"ہم غیرریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں"



اسلام آباد(24نیوز) وزیرخاجہ شاہ محمود قریشی کہا بھارتی پائلٹ کورہا کرنےکیلئے کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا،پاکستان چاہتا ہے خطے کےامن کوسیاست کی نظر نہ کیا جائے، بھارتی گجرات میں جو کچھ ہوا،کس نے کیا،کس کی ایما پر ہوا؟ ہم بھارتی شہریوں سے بدسلوکی نہیں چاہتے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےبرطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ اگر بھارت نے پاکستان کی بات غور سےسمجھی ہوتی توصورتحال یہ نہ ہوتی،ہم غیرریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں,ہم نے بھارت سے ٹھوس شواہد دینے کے لئے کہاتھا، ہم نے تعاون کی بات کی تھی ہم نے بھارت سے کہا کہ آئیے بات کرتے ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کی دانشمندانہ راہ ہے ہم ہمسائے اور جوہری قوت ہیں، کیا ہم جنگ کے متحمل ہوسکتے ہیں؟ یہ خودکشی ہوگی محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی بہت شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا صورتحال اب بھی سنگین ہے، دونوں ممالک کی فضائیہ متحرک اور ہم ہائی الرٹ پر ہیں، پروازیں بند ہیں امید ہے کہ بھارتی صورتحال کا ادراک کریں گے،پاکستان امن اور استحکام چاہتاہے پاکستان میں نئی حکومت نئی سوچ نیا ارادہ لے کر آئی ہے، ہم مسائل حل کرنا چاہتے ہیں کیا ایک دوسرے پر میزائل چلا کر مسائل حل ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، صرف بات چیت سے ایسا ہوسکتا ہے،ان کاکہناتھاکہ شواہد دے کر اور حل تلاش کرکے ہی آگے بڑھاجاسکتا ہے ابھی یہ نہیں کہاجاسکتا کہ جیش محمد واقعے میں ملوث ہے، ان کے اعتراف کے بارے میں بھی ابھی ابہام ہے۔

وزیرخارجہ کاکہناتھاکہ تنظیم کے لوگ اس سے انکار کررہے ہیں اس پر کنفیوژن ہے، متضاد اطلاعات ہیں ہم نے تنظیم کالعدم قرار دی، بہاولپور میں نام نہاد مرکزی دفتر کو پنجاب حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا،بھارتی دعوی کررہے تھے کہ یہاں تربیتی کیمپ ہے، سارے میڈیا اور دنیا نے خود حقیقت دیکھ لی کہ ایسا نہیں بھارت نے دعوی کیا تھا کہ اس نے تین کیمپوں کو نشانہ بنایا، وہ کہاں ہیں؟ ساڑھے تین سو لاشیں کہاں ہیں؟ دعوی تھا کہ25منٹ تک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، یہ بھی سچ نہیں نکلا، خود بھارت میں لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں۔

میں نئی حکومت کی سوچ، اپروچ اور پالیسی کی بات کرتا ہوں جو بہت واضح ہے ہم پاکستانی سرزمین کسی گروپ، تنظیم کو بھارت سمیت کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی،ماضی کی بات کریں گے تو پھر دونوں طرف انگلیاں اٹھیں گی اس موقع پر ہم کشیدگی میں کمی لانا چاہتے ہیں یا پھر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہنا ہے،بھارتی میڈیا کا ایک حصہ نہایت غیرذمہ دارانہ کردار ادا کررہا ہے، وہ جنگ بھڑکا رہے ہیں، خطے میں خطرناک کھیل کھیل رہا ہے ہم ہر جائز بات سننے کے لئے آمادہ ہیں، پاکستان میں عدالتیں آزاد ہیں کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ٹھوس شواہد ہونا لازم ہے۔

یہی بھارت سے کہاہے کہ ٹھوس شواہد دیں جس پر وہ کیس تیار ہوسکے جس کو پاکستان کے عوام کے سامنے ثابت کیاجاسکے بھارت نے کل ہی ڈوزئیر دیا ہے، اگر بھارت اس پر بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ہم اس پر بھی تیار ہیں روسی وزیر خارجہ نے ثالثی کی پیشکش کی ہے،روسی وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے لئے ہم پلیٹ فارم مہیا کرنے پر آمادہ ہیں ہم اس پیشکش پر آمادہ ہیں، بھارت اپنا فیصلہ کرسکتا ہے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے اس معاملے میں اپنے کردار کی پیشکش کی، چین اور یورپی یونین بھی کردار ادا کررہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے بہت مثبت بات کی ہے، میں اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، مغربی سرحد کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں جہاں صورتحال انتہائی حساس ہے،70سال کے بعد افغانستان میں امن کے بہت قریب ہیں، یہ تاریخی موقع ہے، ہم توجہ نہیں ہٹانا چاہتے جو خطرناک ہوگا۔

وزیرخارجہ کامزید کہناتھاکہ نریندر مودی جس انتہاءپر جارہے ہیں، پھر اس سے واپسی آسان نہیں ہوگی، فیصلہ اب بھارت کے عوام نے کرنا ہے،بھارت کے عوام جس کو بھی منتخب کریں گے، ہم اس سے بات کریں گے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر دنیا کو دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا ہم دہشت گردی کے خلاف ہے۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER