کیا رافیل معاہدہ مودی حکومت لے ڈوبے گا؟

 کیا رافیل معاہدہ مودی حکومت لے ڈوبے گا؟


دہلی(24نیوز) رافیل ڈیل کیا ہے ؟ کیا رافیل معاہدہ مودی کی سیاسی شکست کا سبب بنے گا؟

31 جنوری 2012ء کو بھارت نے فرانس سے 126 ڈیسالٹ رافیل لڑاکا طیارے خریدنےکا اعلان کیا۔2014 آگیا لیکن معاملات طے نہ ہوسکے۔ یہاں تک سب کچھ اصولوں کے مطابق چل رہا تھا لیکن اس کے بعد جو ہوا اس نے مودی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا۔اس تمام مدت کے دوران طیاروں کا بجٹ دو گنا بڑھ جانے کے باعث مودی حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ 126 طیاروں کے بجائے مکمل تیار شدہ صرف 36 طیارے خریدے گی۔ بھارتی حکومت نے کمپنی کے ذریعے طیارے بنانے کا منصوبہ یہ کہہ کر ختم کردیا گیا کہ دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی سرکاری کمپنی انڈین ایروناٹکس جنگی طیارے بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے معاہدے کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کردیا جسے مودی حکومت نے ماننے سے انکار کردیا۔ مودی نے طیاروں کی خریداری کے لیے 10 اپریل 2015کو فرانس کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انیل امبانی ان کے ساتھ تھے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ انیل امبانی نے مودی کے فرانس جانے سے 13 دن پہلے ریلائنس ڈیفنس کے نام سے نئی کمپنی بنائی۔معاہدہ ہونے کے اگلے دن کانگریس نے انیل امبانی کی سرکاری معاہدے کے دوران موجودگی اور خریداری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے۔

سابق فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ''بھارتی وزیراعظم مودی نے انیل امبانی کے ریلائنس گروپ کے ساتھ طیاروں کی ڈیل کرنے پر زور دیا۔ یہ بیان مودی حکومت پر بم بن کر گرا۔ اس وقت مودی حکومت رافیل معاہدے میں کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے، مئی 2019 میں بھارت میں عام انتخابات ہیں، اگر اس وقت بھارتی سپریم کورٹ مودی کو رافیل اسکینڈل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے تو اس کا اثر عام انتخابات پر ضرور پڑے گا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔