رستے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے چیف جسٹس کا ازخود نوٹس



اسلام آباد( 24نیوز ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان بھی حرکت میں آگئے،کئی دن سے انصاف کیلئے سڑکوں پر بیٹھے افراد کے مایوس چہروں پر خوشی لانے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔

تقصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت، لیویز، پولیس اور وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی جب کہ کیس کی سماعت 11 مئی کو کوئٹہ میں ہوگی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہزارہ والے ڈر کے مارے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دے رہے اور ان کے قاتل کھلے عام جلسے کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: ہزارہ برادری کا دھرنا ختم، پاک فوج پراعتمادکااظہار

 چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہزارہ والوں کو یونیورسٹی میں داخلے نہیں ملتے اور وہ اسکول، اسپتال نہیں جاسکتے، کیا ہزارہ والے پاکستان کے شہری نہیں ہیں،چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر ازخود نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ میں مختلف کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

یاد رہے کہ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کئی روز سے بلوچستان میں احتجاج کیا جارہا ہے جب کہ گزشتہ روز ہزارہ عمائدین نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد احتجاج ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

واضح رہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں چونکہ یہ تعداد میں بہت کم لیکن اپنی کمیونٹی کیلئے بہت متحد ہیں،یہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ان کی غیر اعلانیہ نسل کشی کی جارہی ہے جس کا الزام وہ حکومت کو دیتے ہیں،یہ عدم تحفظ کا بھی شکار ہیں۔