ڈیرہ غازی خان کی بہنوں کیلئے زندگی عذاب بن گئی

ڈیرہ غازی خان کی بہنوں کیلئے زندگی عذاب بن گئی


ڈیرہ غازی خان ( 24نیوز ) ڈیرہ غازی خان پنجاب کا سرحدی علاقہ ہے اور یہ پسماندگی کے لحاظ سے بھی پہچان رکھتا ہے،یہاں کے لوگوں کو صحت اور دیگر بنیادی سہولیات ایسے میسر نہیں جیسے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں ہیں،یہاں سخی سرور سے شروع ہونیوالا پہاڑی سلسلہ بلوچستان تک جاتا ہے،دشوار گزار رستوں سے ٹریفک کا گزرنا بھی محال ہے، کبھی کبھی تو یہ رستے بند ہوجاتے ہیں اور لوگ پھنسے رہتے ہیں۔

اگر بنیادی سہولیات کا جائزہ لیں تو اور بھی گھمبیر صورتحال ہے،یہاں کا پانی صاف نہیں بلکہ مضر صحت بھی ہے،پبلک ہیلتھ اور میونسپل کارپوریشن سمیت سبھی اس سلسلے میں ناکام ہیں،شہری آبادی سیوریج شدہ پانی پینے پر مجبور ہے جبکہ دیہی علاقوں میں صورت حال اس سے بھی خراب ہے، ڈیرہ غازیخان کا شمار پنجاب کے ان اضلاع میں کیا جاتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی بی اور ایچ آئی وی اینڈ ایچ آئی وی ایڈز ،دمہ اور پھیپھڑوں کامرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہاں جو ہسپتال ہیں وہ بھی سہولیات نہ ہونے سے کسی کام کے نہیں رہے اکثر مریضوں کو ملتان لایا جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:رستے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

ممبران صوبائی وقومی اسمبلی کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سرکاری محکموں میں بیٹھی بیورو کریسی نے بھی عدم توجہی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے حکمرانوں نے بھی اس ضلع کو نظر اندازکردیا ہے۔ موجودہ حکومت کو چار سال مکمل ہوگئے ہیں مگر ڈیرہ غازیخان میں تاحال کوئی قابل ذکر بڑا منصوبہ نہ تو منظور ہوا ہے اور نہ ہی شروع ہوا ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام اگر الگ صوبہ کے قیام کی بات کرتے ہیں تو اس صورت میں وہ کیا غلط کرتے ہیں علاقائی محرومیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ جب یہ ذکر ہوتا ہے کہ یہاں سے صدرپاکستان ، گورنر پنجاب،وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدوں پر رہنے کے باوجود بھی کچھ نہیں کرسکے۔

بلوچستان کے علاقے رکنی کے ساتھ پایا جانیوالا علاقہ فورٹ منرو ہے جو صحت افزا مقام ہے لیکن یہاں قبائلی آباد ہیں،ادھر پانی اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے باعث کم ہی لوگ رخ کرتے ہیں،یہاں ایک علاقہ راکھی گاج ہے جو کہ بالکل ہی پسماندہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بوم بوم آفریدی کی سماجی خدمات کا پوری دنیا میں چرچہ

راکھی گاج میں دو بہنیں پراسرار بیماری میں مبتلا ہیں،بیماری کے باعث دونوں بچیاں 24گھنٹے چلاتی ہیں اور ان کا پورا جسم بھی سارا 24گھنٹے کانپتا ہے،بیماری کے باعث دونوں بہنیں بلوغت کی عمر تک پہنچتے جسمانی کمزوری کا شکار ہو جاتی ہیں،کمزوری کے باعث دونوں لڑکیاں چلنے، بولنے، بیٹھنے سے قاصر ہیں،پر اسرار بیماری کے باعث بچیوں کا جسم سارا دن کانپتا ہے اور درد کی شدت زیادہ ہونے پر چلاتی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سورج چھٹی پر چلا گیا

والدین کا کہنا ہے کہ بچیوں کی بیماری کے باعث پریشان ساری دولت بچیوں کے علاج پر خرچ کر چکے ہیں،چچا رحیم بخش کا کہنا ہے کہ 8 سال سے بچیوں کا علاج کروا رہے ہیں اب سب جمع پونجی ختم ہو چکی ہے۔انہوں نے حکام بالا اور مخیر حضرات سے بچیوں کے علاج کے لیے درخواست کی ہے۔