نقیب اللہ قتل کیس:ضمنی چالان منظور، راؤانوار جعلی پولیس مقابلے کا مرکزی ملزم قرار

نقیب اللہ قتل کیس:ضمنی چالان منظور، راؤانوار جعلی پولیس مقابلے کا مرکزی ملزم قرار


کراچی(24نیوز) کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ مرکزی ملزم راؤ انوار کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا۔

ملزم کو آئندہ سماعت پر ہر صورت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ، جبکہ ضمنی چالان منظور کرلیا ہ گیاہے جس میں راؤ انوار کو جعلی پولیس مقابلے کا مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے

جبکہ  نقیب اللہ کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ  اگر راؤ انوار کو ہتھکڑی لگا کر عدالت نہ لایا گیا تو پورا ملک بند کردیں گے۔ 
انسداد دہشتگردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، کیس میں شریک ملزمان کو تو عدالت پہچنا دیا گیا لیکن مرکزی ملزم راؤ انوار پیش نہ ہوئے۔ عدالت میں جیل حکام نے رائو انوار کے بیماری کے حوال سے میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا، جیل حکام کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو بیماری کے باعث پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ نقیب اللہ قتل کیس سے متعلق ابتدائی پیشرفت رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پٹرول پمپ مالکان کا شہری پرتشدد، ویڈیو 24نیوز کو موصول

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نقیب اللہ قتل کیس کا حتمی چالان انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں جمع ہوچکا ہے، مقدمے میں ڈی ایس پی قمر سمیت گیارہ ملزمان گرفتار ہیں، جبکہ سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت دیگر مفرور ملزمان کے گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہے ۔سماعت کے بعد مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ راؤ انوار نے بیماری کا بہانا کیا ہے۔ راؤ انوار کو پروٹوکول میں لانے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت کے باہر جرگہ عمائدین کی جانب سے احتجاج کر کے نعرے بازی بھی کی گئی ۔ 
عدالت نے آئندہ سماعت پر ہر صورت میں راؤ انوار کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی ۔

دوسری جانب مقتول نقیب اللہ کے گھر والے بھی عدالت پہنچ گئے انھوں نے راؤ انوار کے عدالت نہ پہنچنے پر شدید غصہ کیا اور کہا کہ اگر راؤ انوار کو ہتھکڑی لگا کر عدالت نہ لایا گیا تو پورا ملک بند کردیں گے۔ ان کامزید کہنا تھا کہ ہم عدالت سے پر امید ہیں اور کہا کہ راؤ انوار تو بہادر تھا اب بہانے کیوں بنا رہا ہے۔