حکومت بجلی کی صورتحال معمول پر لانے میں ناکام

حکومت بجلی کی صورتحال معمول پر لانے میں ناکام


اسلام آباد( 24نیوز )حکومت بجلی کی صورتحال معمول پر لانے میں ناکام ہوگئی،تیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی بجلی لوڈشیڈنگ میں کمی نہ ہو سکی،بجلی کے بند پاور پلانٹس حکومتی کارکردگی اور ان کے دعووں کی کھلی کھول رہی ہے۔

حکومت بجلی کی صورت حال تیس گھنٹے بعد بھی معمول پر نہیں لاسکی،چشمہ کے 900میگاواٹ کے 3پاور پلانٹس سے بجلی کی فراہمی شروع نہ کی جاسکی جبکہ ایل این جی کے 3600میگاواٹ کے 3پاور پلانٹس تاحال بند ہیں۔

سسٹم سے 4500میگاواٹ بجلی بدستور باہر ہے،بجلی کا مجموعی شارٹ فال 5ہزار میگاواٹ سے زائد کا ہوچکا ہے،دس فیصد سے زیادہ لائن لاسز والے فیڈرز پر 2سے 18گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔

دس فیصد سے کم نقصانات والے فیڈرز کی تعداد 61فیصد بنتی ہے۔کیٹگری ٹو میں 10فیصد سے زیادہ نقصانات والے فیڈرز شامل ہیں۔ ان فیڈرز کی تعداد 39فیصد بنتی ہے،کیٹگری ٹو والے فیڈرز پر 2سے 16گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

ادھر پٹرولیم ڈویڑن ذرائع نے بتایا کہ تھرمل پاور پلانٹس کو ملنے والے ایندھن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، فرنس آئل کی درآمد کیلیے تین دنوں کی تاخیر کی وجہ سے جنکوز سے بجلی کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ ہے ۔