قومی اسمبلی: خواتین سے متعلق نازیبا الفاظ کیخلاف قرار داد منظور


24نیوز: قومی اسمبلی نے خواتین کیخلاف نازیبا ریمارکس دینے پرن لیگی رہنماوں کیخلاف تحریک انصاف کی رہنماء شیریں مزاری کی قرار داد مذمت متفقہ طور پر منظور کر لی۔

 شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ نے جو گندی زبان استعمال کی ہم نہیں کرنا چاہتے۔ یہ نا سمجھا جائے کہ ہم یہ زبان استعمال نہیں کر سکتے۔ اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ خواتین کسی بھی گھرانے سے ہو وہ قابل احترام ہیں۔ قومی اسمبلی نے خواتین کیخلاف نازیبا ریمارکس دینے پرن لیگی رہنماوں کیخلاف تحریک انصاف کی رہنماء شیریں مزاری کی قرار داد مذمت متفقہ طور پر منظور کر لی۔

صوبائی وزیرقانون رانا ثنا اللہ کے خواتین کے متعلق بازیبا ریمارکس معاملہ پارلےمنٹ بھی پہنچ گیا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے رانا ثناءاللہ کے خواتین بارے ریمارکس کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے پر بجٹ اجلاس سے قبل بحث ہونی چاہیے۔ اسپیکر نے بحث کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو خواتین کا احترام کرنا چاہیے۔ ایوان خواتین کا احترام کرتا ہے۔جو خواتین کا احترام نہیں کرتا اس کی مذمت کرتا ہوں۔

اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ کل شب برات تھی، اللہ سے معافی مانگی،  اب اراکین سے بھی معافی چاہتا ہوں۔ باقی لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ غلطیوں کی معافی مانگیں۔ شیریں مزاری نے مسلم لیگ رہنماوں کیخلاف مذمتی قرار داد پیش کی۔ جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرارداد میں رانا ثنا اللہ سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صوبہ بہاولپور کو بحال نہ کیا گیا تو ۔۔ نواب آف بہاولپور نے بڑی دھمکی دیدی

 اس سے قبل معاملے پر ا ظہار خیال کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ ن لیگی وزراء خواتین کو گالیاں دیتے ہیں۔ جب ایوان میں میرے لیئے نازیبا الفاظ استعمال کیئے گئے اگر اس وقت سخت ایکشن ہوتا تو شاید آج یہ نہ ہوتا۔ ان الفاظ پر معافی مانگی جائے۔ برداشت کا امتحان نہ لیا جائے۔

شازیہ مری نے کہا کہ کسی کو طعنہ دینا ہو کہا جاتا ہے چوڑیاں پہن لو، چوڑی پہننا کوئی گالی نہیں ہے۔ جس جماعت کے لوگوں نے بیانات دیے اس جماعت کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے۔ خواتین کو ہراساں کرنا اب قومی مسئلہ ہے۔ طاہرہ اورنگزیب نے رانا ثناء اللہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خاتون، ماں بہن اور بیٹی ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:نواز شریف، خواجہ آصف کے بعد احسن اقبال بھی قانون کے شکنجے میں آگئے

 شہباز شریف نے معافی مانگی اور مذمت بھی کی۔ اس معاملے کو ختم کر دینا چاہیے۔

مزید جاننے کے لیے ویڈیو دیکھں:

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito