سینیٹ اجلاس: متحدہ اپوزیشن نے بجٹ 19-2018 کو کالا بجٹ قرار دیدیا



اسلام آباد (24 نیوز) سینیٹ میں بجٹ 19-2018 پر اپوزیشن برہم ہوگئی۔ اپوزیشن نے بجٹ کو کالا بجٹ قرار دے دیا۔ حکومتی بینچز خالی ہونے اور وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے سینیٹ اجلاس سے واک آّٹ کر دیا۔ خاتون اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے کہا کہ جب وزراء آجائیں تو ہمیں بھی بلا لیجیئے گا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں بجٹ 19-2018 پر بحث کی گئی۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بجٹ میں مسلم لیگ ن نے اپنے منشور کے برخلاف پالیسیاں دیں۔ ایمنسٹی سیکم کے ذریعہ کالے دھن اور کرپشن سے اکٹھا کیے گئے پیسے وائٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں خواتین سے متعلق نازیبا الفاظ کیخلاف قرار داد منظور کر لی گئی 

سینٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ میں صرف لفاظی کی گئی۔ ستارہ ایاز نے پیش کردہ بجٹ میں فاٹا کے لیے 24 بلین روپے ناکافی قرار دیئے۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ یہ مزدور دشمن، عوام دشمن بجٹ ہے اور یہ بجٹ بھی کالا بجٹ ہے۔

سینیٹر عبدالقیوم حکومت کے لیے تعریفی کلمات کہتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ چھٹا بجٹ پیش کرنا حکومت کا کریڈٹ ہے۔ توانائی منصوبوں میں سے کئی مکمل ہو چکے ہیں۔ کچھ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے ہمیشہ کی طرح پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کی اور بجٹ کے بجائے سیاسی پہلوؤں پر اظہار خیال کرتے رہے۔

پڑھنا نہ بھولیں: صوبہ بہاولپور کو بحال نہ کیا گیا تو ۔۔ نواب آف بہاولپور نے بڑی دھمکی دیدی 

مشاہد اللہ نے کہا کہ اگر سلیکشن نہ ہوئی تو اگلا بجٹ بھی ہم ہی پیش کریں گے لیکن سلیکشن ہوئی تو مقابلہ ایسا کریں گے کہ دنیا دیکھے گی۔ ان کو پتہ لگ جائے گا کہ عوام کیا سوچ رہے ہیں۔

حکومتی بنچوں کی متعدد نشستوں کے خالی ہونے اور وزیروں کی عدم موجودگی پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمن خوب برہم ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ جب وزراء آجائیں تو ہمیں بھی بلا لیجیئے گا۔

ضرور پڑھیں: خواجہ آصف کی نااہلی فیصلہ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور 

وزیروں کی عدم موجودگی پر متحدہ اپوزیشن نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا جس کے بعد سینیٹ اجلاس کل سہ پہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

احمد علی کیف

Urdu Content Lead