غیر منتخب شخص کا بجٹ پیش کرنا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے: خورشید شاہ


اسلام آباد(24نیوز) قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث پر قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں بجٹ کو مسترد کردیا ان کا کہنا تھا کہ غیر منتخب شخض سے بجٹ پیش کروا کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہنا تھا کہ غیر منتخب شخض سے بجٹ پیش کروا کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی۔ چھوٹے صوبوں کے پروپوزل شامل ہی نہیں کیے گئے۔ ہمیشہ پارلیمان کے وفاق تقدس اور وفاق کی مضبوطی کی بات کی لیکن حکومت نے ہمیشہ پارلیمان کے تقدس اور وفاق کو نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم پاکستان کا فاٹا اصلاحات اسی ماہ لانے کا اعلان

 قومی اسمبلی اجلاس میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے آئین کی غلط انٹرپرٹیشن کر کہ ایک ہی دور حکموت میں چھٹا بجٹ پیش کی ہے۔ پارلیمنٹ میں منتخب نمائندے عوامی مینڈٹ لے کر آتے ہیں۔ غیر منتخب شخص کا بجٹ پیش کرنا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ ہم بجٹ کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اور اس کو مسترد کرتے ہیں۔ حکومت کے پاس ایک ماہ کا مینڈٹ ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:قومی اسمبلی: خواتین سے متعلق نازیبا الفاظ کیخلاف قرار داد منظور

  حکومت ایک سال بجٹ پیش کرنے کا مینڈٹ نہیں ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہم نے مضبوط فیڈریشن مانگی ہے۔ حکومت مضبوط فیڈریشن کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ حکومت چھوٹے صوبوں کے پروپوزل شامل نہیں کرتے۔ جب حکومت فیڈرل یونٹ کا احترام نہیں کرے گی تو ہم تباہی کی طرف جائیں گے۔ اگر آپ مینڈٹ کا احترام نہیں کریں گے تو حالات بگڑیں گے۔

یہ خبر ضرور پرھیں:خواجہ آصف کی نااہلی فیصلہ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

  خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت اصل مسائل سے نظریں چرا رہی ہے۔ قرضوں پر قرضے لیے گئے۔ آج ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد کا مقروض ہے اسکا گناہ صرف اتنا ہے کہ وہ نواز شریف کے دور حکومت میں پیدا ہوا۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito