وزیراعظم عمران خان نے 800 میگاواٹ کے مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا



خیبر(24نیوز) وزیراعظم عمران خان نے 800 میگاواٹ کے مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ دریائے سوات پر منڈا ہیڈ ورکس کے مقام پر واقع مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کی تقریب میں سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) ثاقب نثار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین سمیت دیگر نے شرکت کی۔

پشاور سے 37 کلو میٹر شمال کی جانب ضلع مہمند میں واقع مہمند ڈیم میں مجموعی طور پر 12 لاکھ  93 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جس کی تعمیر سے سیلاب کے نقصانات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ڈیم کی تعمیر کے لیے مجموعی لاگت 291 ارب روپے ہے، جس کی اونچائی 213 میٹر یعنی 698.82 فٹ بلند ہوگی جس سے یومیہ 800 میگا واٹ اور سالانہ 2862 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

این آر او دیا تو یہ قوم سے غداری ہوگی:وزیر اعظم

مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چوری کر کے ملک کو نقصان پہنچانے والا کہتا ہے کہ مجھے علاج کے لیے بیرون ملک جانا ہے اور ان کا ایک ہی مقصد این آر او لینا، اگر انہیں این آر او دیا تو یہ قوم سے غداری ہوگی۔

ملک تباہ ہوتا ہی تب ہے جب ملک کا سربراہ چوری کرتا ہے، عام آدمی کی چوری سے صرف انفرادی نقصان ہوتا ہے، ان کا ایک ہی مقصد این آر او لینا ہے، اگر انہیں این آر او دیا تو یہ قوم سے غداری ہوگی۔ ان پر الزام پہلے سے لگے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہو رہی ہے، اگر آپ لیڈر ہیں تو کرپشن کے الزامات پر جواب دیں، صفائی پیش کرنےکی بجائے چوری بچانے کے لیے پارلیمنٹ اور جمہوریت خطرے میں ہے کی بات کرتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 10 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ہزار ارب پہنچ گیا، حکومت کا کام اپنے لوگوں کی بہتری ہے، کرسی کو بچانے کی کوشش کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا، تاریخ میں ہمیشہ ٹیم کو بچانے والے بڑے کپتان ثابت ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی علاقے پیچھے رہ گئے جن میں قبائلی علاقے بھی شامل ہیں، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے اپنے حصے سے 3 فیصد قبائلی علاقوں کو دیں گے، کئی صوبے اپنا حصہ دینے پر گھبرا رہے ہیں تاہم این ایف سی ایوارڈ سے حصہ دلانے کیلیے تمام صوبوں کو راضی کر لیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا جتنا میں قبائلی علاقوں کو جانتا ہوں کوئی وزیر اعظم نہیں جانتا، قبائلی علاقوں میں مسئلے سمجھتا ہوں اور تاریخ بھی جانتا ہوں، یہاں روزگار نہیں اور پانی کا بھی مسئلہ ہے۔ 

اظہر تھراج

Senior Content Writer