''آسیہ کا معاملہ اس سٹیج پر نہ پہنچایا جائے کہ فوج کو آنا پڑے''

''آسیہ کا معاملہ اس سٹیج پر نہ پہنچایا جائے کہ فوج کو آنا پڑے''


اسلام آباد(24نیوز) ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا کیس گزشتہ 10سال سے عدالتوں میں چل رہاہے، فوج کو ہر معاملے میں گھسیٹنا افسوسناک ہے کیس کا فیصلہ قانونی معاملہ ہے ہے،آئین اور قانون کی بالا دستی کو مقدم رکھا جا ئے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہو ئے کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا کیس گزشتہ 10سال سے عدالتوں میں چل رہاہے، کیس کا فیصلہ قانونی معاملہ ہے ہے، فوج کو ہر معاملے میں گھسیٹنا افسوسناک ہے اپنے کیخلاف بات کو برداشت کررہے ہیں، آئین اورقانون کے احترام کیساتھ فوج کیخلاف بیانات سے گریز کیا جائے، ملک میں بدامنی کی صورتحال بنی ہو ئی ہے،آئین اور قانون کی بالا دستی کو مقدم رکھا جا ئے،سپریم کورٹ کےفیصلے کےخلاف مذہبی جماعتوں نے دھرنا دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ تمام مسلمانوں کا حضورﷺ سے محبت کا رشتہ ہےحضورﷺ سے محبت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا،حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں، فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دی گئی ہے، قانون کو ہاتھ میں نہ لیں, آسیہ بی بی کا معاملہ ایسے اسٹیج پر نہ لے کر جا ئیں گے ذمہ داری فوج پر آجائے اور دینی جماعتوں سے درخواست ہے لیگل پروسیس کا حصہ بنیں، بہترہوگا آسیہ مسیح کے معاملے میں قانونی عمل کو مکمل ہونے دیا جائے.

ڈی جی آئی ایس پی آر کا گفتگو کرتے ہوئے کہناتھا کہ دشمن افرا تفری اور انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے چاہتے ہیں امن اور ترقی کی طرف جائیں،ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب ہیں، ہماری توجہ نہ ہٹائی جائے افواج پاکستان برداشت کامطاہرہ کر رہی ہے   افواج پاکستان دہشتگردی کےخاتمےمیں مصروف ہے،ہمیں ایسا کوئی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے جس کی ہمیں آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔

ڈی جی ائی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جو بھی ہدایت ہوگی اس پر عمل ہوگا، اسلام ہمیں امن ،درگزر اورمحبت کا درس دیتاہے,جو ہمارے خلاف باتیں ہو رہی ہیں قانون کے مطابق ان پر ایکشن بھی ہو سکتا ہے،ایسے موقع پر اگر فوج دائیں بائیں جائے گی تو پھر مسائل ہوں گے.

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور  کا کہنا تھا کہ حکومت خود بھی اس معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے، پاک فوج پاکستان کی فوج ہے اور عوام سے ہم محبت کرتے ہیں۔