آئی جی اسلام آباد نے کام کرنے سے انکار کردیا


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد کے تبادلہ پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعظم سواتی استعفیٰ دیں ، وفاقی وزیر اور دوسرے فریق کے درمیان صلح کو نہیں مانتے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلہ پر سماعت کی، اس موقع پروفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی اعظم سواتی بھی کمرہ عدالت میں موجودتھے،  سماعت کے آغاز میں آئی جی جان محمد کا کہنا تھاکہ وہ اپنے عہدے پر مزید کام جاری نہیں رکھ سکتے،موجودہ حالات میں کام کرنا مشکل ہے اس لئے عدالت سے استدعا ہے کہ تبادلے کے احکامات پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے،  چیف جسٹس سے متاثرہ خاندان کے سربراہ نے کہا کہ ہماری صلح ہوگئی اللہ کی رضا کے لئے معاف کرتا ہوں,ملک کا امن وامان اور اس کی عزت کو خراب نہیں کر سکتے، چیف جسٹس بولے کہ آپ بے شک معاف کردیں، عدالت معاف نہیں کرے گی۔ 

جیف جسٹس کا اعظم سواتی ک کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفر عدالت میں پیش ہوئےچیف جسٹس بولےکہ علی ظفر آپ ہر بڑی شخصیت کی طرف سے پیش ہونے آجاتے ہیں، یہ بتائیں کہ آپ کا لائسنس کتنے دنوں کےلیے معطل کروں،  چیف جسٹس کا وزیر سائنس وٹیکنالوجی سے کہنا تھا کہ اگر آپ کو اپنے کئے پر افسوس ہورہا ہے تو عہدہ چھوڑ دیں، پہلے غریب آدمی پر ظلم کیا پھر پیسے دے کر صلح کرلی گئی اس معاملے کی تحقیقات کے لئے جےآئی ٹی بنارہے ہیں جس کے لئے افسران کا انتخاب ہم خود کریں گے، چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ  آپ نے ایک خاندان کی روزی بند کر دی ، یہ ہے آپ کی شرافت، ابھی 62ون ایف لگادیتے ہیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے آئی جی اسلام کی معطلی کا حکم واپس لیتے ہو ئے کہا کہ متاثرہ بچے  کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی مکمل تحقیق کریں اور وزیر کے ساتھ وہی  جو سلوک کریں جو عام آدمی کے ساتھ ہو تا ہے،واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر اعظم سواتی کے فام ہاؤس کے ملازمین اور ایک غریب خاندان کے افراد کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔