’’کچھ ایسے بدقسمت جو گھر بیٹھے کروڑ پتی بن گئے‘‘

’’کچھ ایسے بدقسمت جو گھر بیٹھے کروڑ پتی بن گئے‘‘


جھنگ( 24نیوز )گھربیٹھے " کروڑ پتی " بننے والوں کی فہرست طویل ہونے لگی,کراچی کے فالودہ فروش کے بعد جھنگ کا طالب علم بھی سامنے آ گیا،اسدعلی کے اکاؤنٹس میں بھی کئی ملین روپوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گھر بیٹھے کروڑ پتی بننا اکثر لوگوں کا خواب ہوتا ہے پاکستان میں تو اب گھر بیٹھے کئی لوگ ارب پتی بھی بن گئے ہیں لیکن یہ کچھ بدقسمت ارب پتی ثابت ہوئے ہیں کہ نہ  رقم ان کی ملکیت ہے، نہ وہ اپنے نام پر کھلے اکاؤنٹ سے یہ رقم نکلوا سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ایک فالودہ فروش کے اکاؤنٹ میں سوا دو ارب روپے جمع ہونے کا انکشاف ہوا،تو اب جھنگ کے طالب علم کے اکاؤنٹس میں کروڑوں کی رقم کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق اسد علی کے دو اکاؤنٹس سے 17کروڑ 30لاکھ روپے نکلوائے گئے، وہ کراچی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر وضاحت دے، لیکن اسد کا کہنا ہے کہ وہ تو بے روزگار ہے، اسے نہ اپنے نام پر کھولے گئے ان اکاؤنٹس کا پتہ ہے نہ کسی رقم کی موجودگی کا علم ہے۔ اسد علی نے یو ای ٹی لاہور سے بی ایس سی انجینئرنگ کی، یو ای ٹی ٹیکسلا میں بھی تعلیم حاصل کر چکا ہے، اس کا کہنا ہے ایف آئی اے کا اس پر الزام درست نہیں، بے گناہی ثابت کرنے کیلئے کہیں بھی پیش ہونے کو تیار ہے۔

دوسری جانب کراچی کا فالودہ فروش عبدالقادر ارب پتی کیسے بن گیا،24نیوزنے پتہ چلالیا، اس کے اکاؤنٹ میں رقم 2014 اور 2015 میں منتقل ہوئی، سوا2ارب روپے منتقل کرنے والے بزنس گروپ سے تفتیش کی جائے گی۔ ماضی میں مزدور اور سبزی فروش کے اکاؤنٹس میں بھی 2سے 4ارب کی ٹرانزیکشنز ہو چکیں ہیں، ایف آئی اے کا کہنا ہے اکثر بزنس گروپ ٹیکس بچانے کیلئے ایسے اکاؤنٹ کھولتے ہیں، اس لیے منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹریڈ اکاؤنٹس کی سمت میں بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔