پاکستان کا مستقبل بنیادی ضروریات سے محروم

پاکستان کا مستقبل بنیادی ضروریات سے محروم


کراچی(24نیوز)روہڑی میں1905سے قائم گورنمنٹ پرائمری اسکول میرمحمدحسن کی عمارت خستہ حال ہوگئی،کلاس رومزکم ہونے کی وجہ سے سیکڑوں طلبہ وطالبات کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پرمجبورہیں۔

 تفصیلات کے مطابق روہڑی کے علاقے ٹنڈو بوراو میں 1905 میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میرمحمد حسن کی منظوری دی گئی، جس کے بعد مختلف ادوار میں عمارت کی تعمیرات کا کام مکمل ہوا اور تعلیمی سرگرمیاں بھی شروع ہوگئی,موجودہ دور میں اسکول میں مجموعی طور پر ساڑھے پانچ سو سے زائد طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں لیکن اکثر بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث اسٹوڈنٹس اور انتظامیہ کو پریشانی کا سامنہ ہے۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی گئی تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جاسکے تاہم اس کے برعکس ٹنڈوبوراو سمیت ضلع سکھر کے متعدد اسکولوں میں انفرااسٹکچر اور اسٹاف کی کمی کا سامنہ ہے, سندھ کے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیئے نافذ تعلیمی ایمرجنسی پر من وعن عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے۔