جج ویڈیو سکینڈل کے دو اہم ملزم کمرہ عدالت سے نکلتے ہی گرفتار

جج ویڈیو سکینڈل کے دو اہم ملزم کمرہ عدالت سے نکلتے ہی گرفتار


راولپنڈی(24 نیوز)ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں خارج،سابق جج ارشد ملک ویڈیوسکینڈل کے ملزمان ناصرجنجوعہ اور خرم یوسف کو کمرہ عدالت سے نکلتے ہی گرفتار کرلیا گیا۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تحقیقاتی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی، سول جج شائستہ کنڈی نے اسی کیس کے ملزم میاں طارق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی گئی، ایف آئی اے نے کیس میں جواب جمع نہیں کرایا۔

سابق جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس، ملزمان ناصرجنجوعہ اور خرم یوسف کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستوں پر سپیشل سنٹرل جج طاہرمحمود نے سماعت کی،ناصر جنجوعہ کے وکیل نے دلائل دیئے کہ ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق ناصر بٹ نے ویڈیو ریکارڈ کرائی،ان کے موکل کا کوئی تعلق نہیں،جج نے استفسار کیا کہ کیا رپورٹ میں کہیں ناصر جنجوعہ کا نام لیا گیا؟؟ وکیل نے بتایا کہیں ایسا نہیں لکھا گیا کہ ان کے موکل پرالزام ہے۔

وکلاء صفائی کی مخالفت کے باوجود عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج کردیں جس پر دونوں کو کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔

ویڈیو اسکینڈل کیس میں گرفتار ایک اور ملزم میاں طارق محمود کو ایف آئی اے نے جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر اڈیالہ جیل سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شائستہ کنڈی کی عدالت میں پیش کیا، ایف آئی اے تفتیشی ٹیم کی جانب سے کوئی اہلکار آیا نہ جواب جمع کرایا گیا۔عدالت نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer