چینی مردوں سے شادی کرنیوالی پاکستانی لڑکیوں کے حوالے سے بھیانک انکشاف

چینی مردوں سے شادی کرنیوالی پاکستانی لڑکیوں کے حوالے سے بھیانک انکشاف


اسلام آباد(24نیوز)چینی مردوں سے شادی کرنیوالی پاکستانی لڑکیوں کے جسم کے اعضا نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں رکن کمیٹی شنیلا رتھ نے کہا ہے  پاکستانی بچیوں کی چائنیز کے ساتھ شادیوں کے بعد جسم کے اعضا نکال لیے جاتے ہیں، شنیلا رتھ نے مذہب کی زبردستی تبدیلی کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ بھی کر دیا،،قائمہ کمیٹی نے خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد سمیت دیگر واقعات کی تفصیلات طلب کر لیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا اجلاس چیئرمین ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا،پاکستان لاء اینڈ جسٹس کمیشن حکام نے ایئر کریش سے متعلق اپنی تجاویز پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا۔

اجلاس میں ملتان اور چترال میں پی آئی اے طیارہ کے حادثے کے متاثرین کو دیئے گئے معاوضہ سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی،چیئرمین کمیٹی نے 2006 میں ملتان میں ہونے والے حادثے کے بارے میں کہا کہ معاوضہ زیادہ بنتا ہے جبکہ دو ملین دے دیا گیا،پی آئی اے حکام نے بتایا کہ ان اس وقت قانون 40 ہزار دینے کا تھا جبکہ 20 لاکھ ہر مسافر کو دیا گیا ،جبکہ چترال جہاز حادثے میں جنید جمشید کا سکسیشن سرٹیفیکیٹ نہیں بنا ہوا تھا ان کے بیٹے سے بات ہو چکی ہے ،باقی سب کو معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے۔

کمیٹی اجلاس میں خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے خلاف موثر قانون سازی کے لیے بحث کرتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری قانون ملائکہ بخاری نے کہا ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے،مسلم لیگ ن کی حکومت نے خواتین پر تشدد کے معاملے پر بہت اچھاکام کیا،رانا ثنااللہ بولے ہمارے دیہات میں خواتین بہت سخت ہیں،خواتین پر ہی نہیں بلکہ مردوں پر بھی تشدد ہوتا ہے جس پر کمیٹی اجلاس میں اراکین کے قہقے لگ گئے۔

ممبر کمیٹی شنیلا رتھ نے مذہب کی زبردستی تبدیلی کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا پنجاب میں خواتین پر تشدد کے خلاف بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، شنیلا رتھ کا کہنا تھا چائنیز غریب بچیوں کو پیسے دے کر شادیاں کر رہے ہیں،شادی کے بعد بچیوں کے جسم کے اعضا نکال لیے جاتے ہیں،کمیٹی نے خواتین کے ساتط گھریلو تشدد سمیت دیگر واقعات کی تفصیلات طلب کر لیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer