احساس کا فقدان۔۔عزت کا جنازہ

مناظرعلی

احساس کا فقدان۔۔عزت کا جنازہ


شہروں کی گرین بیلٹس دیکھیں یاپھردیہات کے کھیت،پھولدارپودوں پرنظردوڑائیں یاپھرپھلداردرختوں کاحسن دیکھیں،قدرت کے رنگ ہرسوبکھرے نظرآتے ہیں،یہ سب ڈھکاچھپکانہیں بس احساس ہوناچاہیے،اگراحساس ہوگاتوہی قدرت کے رنگ نظرآئیں گے تبھی ہرچیزمیں محبت کی خوشبومحسوس ہوگی،دنیاخوبصورت لگے گی اورانسان کی انسان سے دوستی ہوگی،لڑائی جھگڑے ختم ہوجائیں گے،گویایہ دنیاہی جنت بن جائے اگراحساس پیداہوجائے،یہ سب لکھنے کی حدتک نہ ہو،بولنے کی حدتک بھی نہ ہوبلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے ورنہ وقت کاضیاع ہے۔

آپ ایک لمحے کیلئے تصورکریں کہ چھوٹے چھوٹے اعمال میں اگراحساس کیاجائے تودوسروں کوکیسے خوشی ہوتی ہے اوراگراحساس نہ کریں توپھرکتنی تکلیف ہوتی ہے اوربعض دفعہ اسی وجہ سے بہت بڑا فسادبھی پیداہوجاتاہے،بہت بڑا جرم بھی سرزدہوجاتاہے،آپ راستے پرچلتے ہوئے کوئی چھوٹی سی رکاوٹ ہٹاکربظاہرایک چھوٹاساعمل کررہے ہوتے ہیں مگراس رکاوٹ کی وجہ سے کسی کوپہنچنے والی ممکنہ تکلیف کاقبل ازوقت ہی ازالہ کردیتے ہیں،آپ بلندآوازمیوزک سنتے ہیں توآپ اپنے گلی محلے میں مریض کومزیدتکلیف میں مبتلاکردیتے ہیں،یہی اگراحساس کامظاہرہ کریں تومریض پُرسکون رہے،آپ گاڑی چلاتے ہوئے دوسروں کااحسا س کریں اورمسکراکرانہیں راستہ پہلے دیں توسوچیں وہ کتناخوش ہوگااوریہ عمل اسے خودکرنے پربھی مجبورکردے گا،آپ تصورکریں کہ سڑک کنارے چلنے والے کے کپڑے اس وقت خراب ہوجاتے ہیں جب آپ بارش میں تیزرفتاری سے گاڑی چلاتے ہیں،متاثرہ شخص آپ کے اس عمل سے خوش ہوگا؟؟۔۔نہیں۔۔۔۔یہاں بھی آپ نے احساس کرناہےتوپھرراہگیروں کے دل میں اپنی قدرمحسوس کیجیے گا۔ایسے کتنے ہی اعمال ہیں جنہیں لکھتے لکھتےکافی صفحات بن سکتے ہیں مگرفی الحال ہم بات کریں گے خواتین کے احساس پر،ایسی خواتین جوبطورآدم کی اولادآپ کی بہنیں ہیں،پھررشتوں کے بندھن میں وہ خواتین مائیں ہوسکتی ہیں،وہ بہنیں ہوسکتی ہیں،وہ بیٹیاں ہوسکتی ہیں اورانہیں میں سے کسی ایک کیساتھ آپ کی زندگی کاسفرچل رہاہوتاہے،وہ آپ کی شریک ہوسکتی ہیں۔جواپنے سگے رشتوں کوچھوڑکرآپ کی خوشیوں کاسبب بننے کیلئے اپنی دنیاچھوڑکرآپ کی دنیامیں خوشیوں کے رنگ بھرتی ہے۔عموماخواتین کسی کی منکوحہ بننے کے بعدگھرکے تمام امورکی ذمہ دار بن جاتی ہیں،کچن انہوں نے چلاناہے،گھرکی صفائیاں انہوں نے کرنی ہیں،گندے مندے کپڑوں کودھوکراُجلاانہوں نے بناناہے،مہمانوں کی تواضع انہوں نے کرنی ہے،بچے انہوں نے پیداکرنے ہیں اوران کی پرورش،تعلیم اورسب ٹینشن اُنہیں کی ہے،پھرسب سے بڑھ کرمجازی خدا کی خدمت اوراس کی خوشی میں اپنی خوشی بھی اُسی عورت نے سمجھنی ہے۔۔تصورکریں ابھی اس عورت کوصنف نازک کہاجاتاہے،ایک نازک ہستی پراتنی بڑی ذمہ داریاں؟مندرجہ بالاتمام کاموں کیلئے باقاعدہ الگ الگ فرد کی ضرورت ہے مگروہ اکیلے ہی کرتی جاتی ہے پھرساس سسر کے سامنے اُف تک نہ کرنابھی اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔۔یہ الگ بات ہے کہ مذہب میں ان خدمتگزاریوں کااجر بہت بڑا ہے مگرایک لمحہ کیلئے سوچیں کہ کچھ نہ کچھ تواحساس مردوں کوبھی کرناچاہیےاورکچھ نہیں تو اس کی عزت ہی کرلی جائے، اس کی خدمت پرتعریف ہی کردی جائے،کبھی کبھاراسے ان تمام کاموں سے چھٹی ہی دیدی جائے،کبھی اس سے اس کی خوشی ہی پوچھ لی جائے،کبھی اسے یہ کہہ کرایک پل سکون سے ہی گزارنے دیدیاجائے کہ آج تم جوکرناچاہتی ہوکرو،آج تمہیں کوئی کام نہیں کرنا۔۔مگریہ سب احساس سے ہوگا۔۔

وجودزن سے ہے تصویرکائنات میں رنگ۔۔۔۔کاش اسے ہی حقیقی معنوں میں سمجھ لیں۔۔۔۔مگردل دکھی ہے،آنکھ نم ہے کہ اس عورت کی عزت کرنے کی بجائے،اس کی قدر کرنے کی بجائے اسے ذلیل ورسواکرنے کاکوئی موقع انسان ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا،ٹی وی چینل دیکھو،اخبارپڑھواورویب سائٹس ایسے مواد سے بھری پڑی ہیں کہ معاشرے میں عورت کوجوتے کی نوک پررکھاجارہاہے،وہ عورت جومرد کی عزت ہوتی ہے اسے ایسے بے عزت کیاجارہاہے کہ یہ سب بیان کرنے کیلئے الفاظ بھی ساتھ چھوڑ دیں۔۔چندایک واقعات کاذکرکرتے ہیں جہاں مردوں نے صنف نازک کی عزت کی دھجیاں اڑائیں۔

یہ غالباسن دوہزاردوکاواقعہ ہے جب جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی کے ایک گاؤں میں نام نہادپنچایت نے ممتازمائی کے بال مونڈنے کاحکم سنادیاتھا جس پرعملدرآمدبھی کسی اورنے نہیں بلکہ سگے بھائیوں نے کیاتھا۔نہ صرف یہ بلکہ متاثرہ خاتون کے چارسالہ بیٹے سانول کانکاح ملزم کی تین سالہ بیٹی سے کرنے کابھی زبردستی فیصلہ کردیاگیا۔ایک خاتون کومعاشرے میں ذلیل ورسواکرکے اس پرمن مرضی کے الٹے سیدھے فیصلے صادرکرکے معاشرے کی بے حسی کااعلان کیاگیااورالزام یہ تھا کہ خاتون کے غلام مصطفی نامی شخص کیساتھ ناجائزتعلقات ہیں۔

اپریل دوہزارتیرہ میں بھی قصورکے نواحی گاؤں بھالہ میں شبینہ نامی خاتون پنچایت کے فیصلے کی روشنی میں ذلیل ہوئی ،ایک لڑکے کیساتھ تعلقات کاشک یقین میں بدلاتوبنت حوا کاسرمونڈ دیاگیا۔سماجی کارکنوں نے خاصااحتجاج کیاتھامگرانصاف یہاں کسے ملتاہے؟؟

یہ نومبردوہزاراٹھارہ کاایک دن تھا کہ جب جڑانوالہ کے علاقے میں اسلامپورہ نمبردوالطاف پارک کی رہائشی روبینہ رفیق کواس کے بچوں کے سامنے شدیدتشددکانشانہ بنایا اورغصہ اتارنے کیلئے اس خاتون کے سرکے بال مونڈدیئے۔۔متاثرہ خاتون نے کافی آہ وبکاکی اورانصاف کی بھی دہائیاں دیں مگرآج تک خبرنہیں کہ اس کیس کاکیابنا؟۔

اکیس مارچ دوہزاراٹھارہ کواحمدپور گوٹھ فتح علی چانڈیومیں راہ چلتی فیروزہ نامی خاتون کواس کی بیٹی کے سامنے بے آبروکردیاگیا،تین ملزمان نے مل کرخاتون کے بال کاٹ دیئے۔۔

مندرجہ بالاچندواقعات رفتہ رفتہ ہمارے ذہنوں میں نہیں رہے،ہم بھول گئے ہیں کیوں کہ احساس نہیں ہے،میڈیاکوبھی تازہ خبرچاہیے،قبروں سے مردے نکالنے کاکسی کوشوق نہیں،نہ ہی اس سے بزنس ملتاہے۔چلوتازہ خبرہی چاہیے توآج کل بنت حواپھربے حسوں کے نشانے پرہے،اسمافیصل کیس کاتوآپ کوپتہ ہی ہوگاجس کی ایک خوبصورت اورایک گنجی حالت میں تصویرہربندے نے سوشل میڈیاپرشیئرکرکے اپنااپناحصہ ڈال دیاہے،شایداب احساس بھی فیس بک کی حدتک ہی رہ گیا،اس معاملے میں انصاف ملے ،نہ ملے،شیئرکرنے والوں کوکافی سارے لائیکس اورکمنٹس مل رہے ہیں جو اس کی سوشل میڈیاپرریٹنگ بڑھانے کیلئے کافی ہے۔۔آپ ذراسوچیں کہ ایک شوہراپنی منکوحہ کواس لیے گنجاکردیتاہے کہ وہ اس کے دوستوں کے سامنے رقص کیوں نہیں کررہی۔کہاں گیااحساس ؟؟کہاں گئی شرم وحیا،کہاں گیارشتوں کاتقدس اورکہاں گئی مسلمانی؟؟۔۔"منہ مومناں،کرتوت کافراں"۔۔ظالم شوہرکی ستائی ایک بےچاری عورت نے انصاف کیلئے سب سے پہلے تھانہ کاہنہ لاہور کادروازہ کھٹکھٹایا جہاں شایدیہ سوچ کراہلکارالرٹ ہوگئے کہ دیہاڑی بن جائے گی اوریہ الزام اسما نے بھی لگایاکہ پولیس نے اس سے رشوت مانگی ہے۔۔مانگیں بھی کیوں نہ؟جب شوہرنے احساس نہیں کیاتوپھرپولیس والے بھلاکیوں کریں؟؟؟۔۔آخران کے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،انہوں نے یہ وردی ثواب دارین حاصل کرنے کیلئے تھوڑا ہی پہن رکھی ہے؟؟

عدم احساس کی بیماری میں مبتلامعاشرے کے زیادہ ترافرادنجانے کس راستے پرچل نکلے ہیں؟؟وہ عورت جب بیٹی ہے تورحمت ہے،جب ماں بنتی ہے تواس کے قدموں تلے جنت ہے اوریہاں اس کی عزت کاجنازہ دھوم دھام سے نکال کربھی لوگ شرم محسوس نہیں کرتے۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔