جاوید ہاشمی کے چھوڑ کر جانے میں ن لیگ بھی ذمہ دار تھی: سعد رفیق

جاوید ہاشمی کے چھوڑ کر جانے میں ن لیگ بھی ذمہ دار تھی: سعد رفیق


اسلام آباد(24نیوز): ن لیگ کے سینئر رہنما سعد رفیق کہتے ہیں کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے جیلیں اس لئے نہیں کاٹیں کہ متنازع فیصلے کئے جائیں، نظریہ ضرورت کو اب دفن کرنا ہو گا، جاوید ہاشمی کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے چھوڑ کر جانے میں ن لیگ بھی ذمہ دار تھی۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ افواج کا کردار سلامتی کے لئے ہونا چاہئے سیاست میں دلچسپی نہیں لینی چاہئے۔عدلیہ کی بحالی کے لئے جیلیں اس لئے نہیں کاٹیں کہ متنازع فیصلے کئے جائیں، چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ہم نے سوچا کہ عدلیہ آزاد ہوگئی ہے لیکن پھر ہمارے ہی خلاف فیصلے آنا شروع ہو گئے اورعوام کے منتخب وزیراعظم کو نااہل  قرار دے دیا گیا، عوام کو اس طرح کے فیصلے قبول نہیں، 16 وزرائے اعظم کو الزام لگا کر نکالا گیا ہر بار وزیراعظم ہی غلط ہوتا ہے، کسی دوسرے ادارے کے سربراہ کو کیوں نہیں نکالا جاتا، پرویزمشرف کا احتساب کیوں نہیں ہوتا، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے سے تحقیقات کیوں نہیں کی جار ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ چند لوگ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرسکتے، اسی لئے ہم نے عدالتی نااہلی کے باوجود نوازشریف کو اپنا صدر بنایا جس پر ہمیں فخر ہے۔  ملک میں آج بھی جمہوریت مکمل طور پر بحال نہیں اور سیاست بھی آزادی سے نہیں کرنے دی جارہی، اگر سیاست نہیں ہوگی تو ملک کی سالمیت اور آزادی پر سمجھوتے ہوں گے، ہمیں عدل پر فیصلوں و اتحاد جب کہ نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کی ضرورت ہے۔پاک سرزمین پارٹی کے حوالے سے وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ جو مرضی ہے کرلیں پاکستانی سیاست میں پی ایس پی کا کوئی مستقبل نہیں، بہتر ہوتا ایم کیوایم کے لوگوں کو خود فیصلہ کرنے دیا جاتا۔ بے نظیر  کی شہادت کے بعد بھی مصنوعی لیڈرشپ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن مصنوعی لیڈر شپ اور مصنوعی سیاسی جماعت زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔

وفاقی وزیر سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اپنی فوج سے پیار نہیں کرتا، سیاست دانوں کے متبادل مل جاتے ہیں لیکن افواج کا کوئی متبادل نہیں اس لئے افواج متنازع بننے کے بجائے سلامتی کے لئے کردار ادا کرے اورسیاست میں دلچسپی نہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین کی سربلندی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، فوجی آمریت اور فوج کے پیشہ ورانہ کردار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مزید دیکھئے: