غیر معیاری اسٹنٹ کی فروخت پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس


اسلام آباد (24نیوز) چیف جسٹس سپریم کورٹ نے غیر معیاری اسٹنٹس کی صورت انسانی زندگی سے کھلواڑ کا نوٹس لے لیا، چیف جسٹس بھی انسانوں سے ظلم پر چیخ اٹھے، ان کا کہنا تھا کہ نجی اسپتالوں میں غریب مریضوں کو ذبح نہیں ہونے دیں گے،نجی اسپتال والوں نے تو لوگوں کے کپڑے اتارنا شروع کر دئیے ہیں، کیس کی سماعت شام چار بجے دوبارہ ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں غیر معیاری اسٹنٹس کی فروخت کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لےلیا،چیف جسٹس نجی اسپتالوں کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں پر سخت برہم ہوئے، پمز اسپتال سے انجیو پلاسٹی پر اخراجات کی تفصیل طلب کرلی۔

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر شاہد سے استفسار کیا کہ وہاں پندرہ ہزار اسٹنٹ ملتا ہے، کیا مجھے بھی پندرہ ہزار والا اسٹنٹ ڈالیں گے، کیا چائنہ کے اسٹنٹ قابل استعمال ہیں۔

الشفا والوں نے جج کی بیٹی سے علاج کے 64 لاکھ روپے لئے، چیف جسٹس نے الشفا کے سی ای او کو طلب کرلیا، کہا کہ غریب کو ڈاکٹروں کے ہاتھوں ذبح نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ نجی اسپتال والوں کو بتا دیں کہ عدالت ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اور کلثوم انٹرنیشنل اسپتال کے نمائندے میں مکالمہ بھی ہوا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ دل کے علاج کیلئے آپ کے اسپتال کی شرح منافع کیا ہے؟ نمائندے نے جواب میں کہا دس سے پندرہ فیصد،چیف جسٹس نے کہا کہیں تو آڈٹ کرا لیں،جس پر اسپتال کا نمائندہ خاموش ہوگیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا وقت آگیا ہے کہ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کا معامہ بھی عدالت دیکھ رہی ہے، حالانکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے،چیف جسٹس نے تمام ڈاکٹروں کو اسٹنٹ کے معیار، قیمت سمیت تمام تفصیلی حکمت عملی طے کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔