چینی چیف جسٹس نے بتایا ترقی کا راز صرف خدمت کاجذبہ ہے: چیف جسٹس


اسلام آباد (24نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے تقریب خطاب سے کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، چیف جسٹس نے شعرمیں ارادہ بیان کردیا، وعدہ کرتا ہوں جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے، چیف جسٹس ، عدلیہ آزاد ہے کسی کے ساتھ نہیں ملی ہوئی، جمہوریت کے خلاف کوئی منصوبہ بندی نہیں ہو رہی۔

 تفصیلات کے مطابق  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے خطاب میں کہا کہ عدالتوں کی تکریم ہماری ذمہ داری ہے ہم ذمہ داری نبھائیں گے، لیکن جب توازن عدم توازن میں بدل جائے توایکشن لینا پڑے گا، عدالتوں کی تکریم میں توازن رکھنا ضروری ہے، غلطیاں ہوئی ہیں ازالہ بھی کریں گے، غلطیاں ہوئیں ہوں گی ان حالات کا علم نہیں، نظریہ ضرورت کو دفن کردیا، جسے کوئی شک ہے وہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھے۔

جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں نہ ہوں گے، پاکستان میں جمہوریت کو کبھی ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے ، عوامی حقوق کے لئے سوموٹو ایکشن لئے آئندہ بھی لیتے رہیں گے، بڑے بڑے مگرمچھوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے، ججزکا انتظامی کنٹرول حکومت کی بجائے چیف جسٹس کے پاس ہونا چاہئے، ٹربیونلز کے ججز خودکونظرانداز کئے ججز تصور نہ کریں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایک سال نیک نیت سے کام کرلیں، اس ملک میں عظیم منصف آگئے توملک کی تقدیر بدل جائے گی، پارلیمنٹ کا کام قانون بنانا،عمل کرانا عدلیہ کا کام ہے، کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کیسز کوایک ماہ میں نمٹایا کریں، میں کسی کو پیغام نہیں دے رہا،صرف آپ سے مخاطب ہوں، روزمحشرایک خطے میں چھاؤں ہوگی وہ ایک عادل کا گھرہوگا، کیا حالات کے مطابق قانون اپ ڈیٹ ہوا؟ ججوں کا اپنے رویے درست کرنے ہوں گے، ہم سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازم ہیں، جج جتنی تنخواہ لیتے ہیں اتنا کام کرکے اُٹھیں، آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ  چین کے چیف جسٹس نے مجھے چین کی ترقی کا رازبتایا، چینی چیف جسٹس نے بتایا کہ ترقی کا راز صرف خدمت کا جذبہ ہے، ہم نے اگربچوں کوخوشخال ملک نہ دیا توکوئی خدمت نہیں کی، فخر ہوتا ہے کہ میں پاکستان کا شہری ہوں، بچوں کو خالص دودھ نہ دے سکے تو کوئی فائدہ نہیں، ایک سال نیک نیتی اوردل سےاس ملک کودے دیں ، انصاف وہ ہوتا ہے جونظربھی آئے، روزمحشرایک خطے میں چھاؤں ہوگی،وہ عادل کا گھرہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ ہائی کورٹ کے جج سے زیادہ ہوتی ہے، ہائیکورٹ کے جج کی یومیہ تنخواہ50،45ہزاربنتی ہے، ہائیکورٹ کا ایک جج تنخواہ کی مد میں9 لاکھ سے زائد میں پڑتا ہے، ایک کروڑ سے زائدبجٹ والے کسی جج نےایک فیصد بھی فیصلہ سنایا؟، بچوں کواگراچھا ملک نہ دے سکے توکوئی فائدہ نہیں، بے وطنے لوگ بڑے بدنصیب ہوتے ہیں، بڑے بڑے وائٹ کالروالوں کو کوئی ہاتھ لگانے سے ڈرتا تھا، چین گیا وہاں ترقی دیکھ کر حیران رہ گیا، انصاف وہ ہوتا ہے جونظرآئے، اگرآپ نے نوکری سمجھ کرکام کرنا ہے توپھرچھوڑدیں، وہ جج بھی دیکھے جو ہاتھ سے پنکھا چلا کرلوگوں کو انصاف دیتے، مجھے ٹارگٹ دل اور جذبے سے چاہئیے، میں آپ سے مزدوری نہیں کرانا چاہتا، انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے،مزدوری نہیں۔