فیض آباد دھرنا : اٹارنی جنرل کو حساس اداروں سے معلومات لے کر عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم


اسلام آباد (24نیوز)سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس میں اٹارنی جنرل کو حساس اداروں سے معلومات لے کر عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے پیمرا رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دھرنے سے متعلق نئی رپورٹ بھی طلب کرلی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں فیض آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت اٹارنی جنرل نے دھرنے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پیمرا کے نمائندے سے استفسار کیا کہ پیمرا نے دھرنے کے معاملے پر کیا ایکشن لیا؟ پیمرا کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی لیکن عدالت نے مسترد کردی اور آئندہ سماعت پر نئی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
دوران سماعت وزارت داخلہ کا نمائندہ پیش ہوا۔ عدالت نے وزارت داخلہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے پیش ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس سے بڑے عہدے کا افسر نہیں وزارت دفاع کے پاس؟ نمائندہ وزارت دفاع کو نشست پر بٹھا دیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ اپنی نوکریوں کو مذاق میں نہ لیں، پاکستان کو خطرہ ہوگا تو کس طرف دیکھیں گے؟ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ آئی ایس آئی کی گزشتہ رپورٹ میں ایسی معلومات نہیں تھی جس کو پبلک ہونے سے روکا جاتا۔ آئی ایس آئی نے رپورٹ میں عمومی معلومات فراہم کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کا نمائندہ نہیں آیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزارت دفاع کے نمائندے سے استفسار کیا کہ کیا آپ آئین کوپسند نہیں کرتے؟ آئین کا تحفظ اور عمل سیکیورٹی ایجنسییز کی ذمہ داری ہے۔ کتنا بجٹ سیکیورٹی اداروں پر خرچ ہوتا ہے؟ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کیا کرہی ہے، سمجھ نہیں آتا۔ آخری کام یہی ہے رائفل چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز بہترین کام کررہی ہیں۔ وزارت دفاع آئی ایس آئی ونگ کا نمائندہ ممکن ہے بات سمجھا نہ سکا ہو۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہمیں کم از کم حقائق تو بتا دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی ریمارکس سے غلط تاثر جائے گا۔ معلومات لے کرعدالت کو آگاہ کروں گا۔ کیس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔