بلوچستان: خشک سالی سے جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق

بلوچستان: خشک سالی سے جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق


24نیوز : ملک اور اور ایشیا ٕ کا سب سے بڑا سفاری پارک ہنگول نیشنل پارک میں نایاب جنگلی جانور قحط سالی کے سبب پہاڑوں سے اترنے پر مجبور ہوگئے، حکومتی کی جانب سے اس اہم قومی ورثے کو بچانے کے لیے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاسکا۔

تفصیلات کے مطابق  بلوچستان میں خشک سالی کے باعث ضلع لسبیلہ میں واقع ایشیا ٕ کا سب سے بڑا سفاری پارک ہنگول نیشنل پارک میں قیمتی نایاب نسل کے جانور پہاڑی بکرے (آئی بیکس) ہرن سمیت دیگر تمام نایاب نسل کے جانور خشک سالی اور قحط کے باعث پیاس اور بھوک مٹانے کی خاطر پہاڑوں سے نیچے اتر آنے لگے اوران نایاب نسل کے جانوروں کے بھوک اور پیاس سے مرنے کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے۔

 وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ان نایاب نسل کے جانوروں کی زندگیاں بچانے کے لیے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاسکا فوری طور پر بندوبست کریں ہنگول نیشنل پارک جو ان جانوروں کی حفاظت کیلئے بنایا گیا ہے اور یہ رقبے کے لحاظ سے جنوبی ایشاء کا سب سے بڑا پارک ہے۔

ہنگول نیشنل پارک 15 لاکھ ایکڑ پر محیط ہے جو کہ بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ آواران اور گوادر پر مشتمل ہے اس وقت ہنگول نیشنل پارک میں 10 سے زائد نایاب نسل کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں جن میں سندھ آئی بیکس (پہاڑی بکرا) ، اڑیال، ہرن ، چیتا ، مگر مچھ ، بھیڑیا ، لومڑی ، گیدڑ ، خرگوش ، لفڑ بگڑ سمیت دیگر شامل ہیں۔

  قحط سالی کے سبب ان جنگلی حیات کی زندگیاں خطرے میں ہیںہنگول نیشنل پارک کے جانور ملک کا سرمایہ ہیں اور گزشتہ 4 سالوں سے بارشیں نہ ہونے کے سبب ان جانوروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔  اس وقت علاقے میں خطرناک صورتحال پیدا ہوچکی ہے، حکومت بلوچستان کو چاہئے کہ ہنگول نیشنل پارک میں جانوروں کے تحفظ کے لئے اقدامات کریں۔

بلوچستان میں قحط سالی کے باعث ہنگول نیشنل پارک میں پائے جانے والی نایاب جنگلی جانوروں کی زندگیاں کو لاحق خطرے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت کو چاہئے کہ ہنگول نیشنل پارک کے نایاب جانوروں کی تحفظ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس قومی ورثے کو محفوظ بنایا جاسکیں۔

شازیہ بشیر

Content Writer