آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش

آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش


اسلام آباد(24نیوز) قومی اسمبلی میں حکومت نے آرمی،نیوی اور ایئرفورس ایکٹس میں ترمیم کے بل پیش کردیئے، ترمیمی بل وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے الگ الگ پیش کیے گئے۔ تینوں ترمیمی بل مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیے گئے، اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا.

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا تو خواجہ آصف نے قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا کہ وقفہ سوال کو موخر کیا جائے،جو ارکان حراست میں ہیں ان کے پروڈکشن آرڈرز آج ہی جاری کئے جائیں۔ شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق اور خورشید شاہ کی ایوان میں حاضری لازمی بنائی جائے، وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔

آرمی ایکٹ متعارف کراتے ہوئے پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ترمیمی بل الگ الگ پیش کیے گئے۔ قومی اسمبلی نے تینوں ترمیمی بل مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیئے، اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کل کے اجلاس میں بھی وقفہ سوالات نہیں ہوگا، قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔سرکاری ٹی وی کے نظام میں خرابی کے باعث قومی اسمبلی اجلاس پارلیمنٹ کی ہاوس سکرینز پر نہیں دکھایا جا سکا۔

مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا اعلان: 

گزشتہ روز حکومتی کمیٹی کے ارکان نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جا کر آرمی چیف کی مدت ملازمت پر قانون سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) سے حمایت مانگی جس کے بعد  مسلم لیگ (ن) نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ‏قیادت نے  پیغام پہنچایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہیں بنانا چاہتی، ‏مسلم لیگ ن ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔

جے یو آئی کی آرمی ایکٹ کی مخالفت:

جمعیت  علماء اسلام نے آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم  کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا۔ یہ فیصلہ مولانا اسعد محمود کی زیرصدارت جمعیت علما اسلام کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔  اجلاس میں کہا گیا کہ جے یو آئی کے ارکان آرمی ایکٹ میں ترمیم بل کا حصہ نہیں بنیں گے اور ہر فورم پر اس ترمیم ایکٹ کی مخالفت کی جائے گی۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کیا ہے؟

آرمی ایکٹ میں ترامیم کی تفصیل 24 نیوز نے حاصل کرلی، بل کوپاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کا نام دیا گیا. آرمی ایکٹ ترمیم کے تحت موجود قانون میں نیا باب شامل کیا جائے گا  جس میں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کا نام دیا گیا ہے، آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت تین سال مقررکی گئی جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر انہیں تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔

ترمیمی بل کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی مفاد اور ہنگامی صورتحال کا تعین کیا جائے گا، آرمی چیف کی نئی تعیناتی یا توسیع وزیراعظم کی مشاورت پر صدر کریں گے، ترمیمی بل کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا توسیع عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی، نہ ہی ریٹائر ہونے کی عمر کا اطلاق آرمی چیف پر ہو گا۔

ترمیمی بل کے مطابق اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی پاک فوج سے ہوا تو بھی اسی قانون کا اطلاق ہو گا، ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس کو بھی تین سال کی توسیع دی جائے گی۔آرمی ترمیمی ایکٹ کے بل میں مزید بیان کیا گیا ہے کہ کسی قسم کے تنازع کی صورت میں بھی اسی قانون کا اطلاق جاری رہے گا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔