ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعدتیل کی قیمتوں کو بھی آگ لگ گئی

ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعدتیل کی قیمتوں کو بھی آگ لگ گئی


بغداد( 24نیوز )عالمی قوانین کے خلاف عراق میں ایرانی جنرل پر امریکا نے حملہ کیسے کیا؟ دنیا بھر میں سوال اٹھنے لگے،  امریکی یک طرفہ کارروائی کے بعد تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی جنرلقاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد خطے میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے،  سوشل میڈیا پر ورلڈ وار تھری ٹرینڈ کرنے لگا،برنی سینڈرز سمیت کئی امریکیوں نے بھی صدر ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کردی، روس سمیت کئی ممالک مخالفت میں سامنے آ گئے، پاکستان نے بھی امریکی یک طرفہ کارروائی مسترد کر دی۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکا نے یک طرفہ کارروائی کی، جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے،مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے بعد تیل کی قیمت میں 4 فیصد اضافہ ہو گیاجبکہ دنیا بھر میں ورلڈ وار تھری ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا،مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد چین نے فریقین کوتحمل سےکام لینےکامشورہ دیا ہے جبکہ امریکا کی یک طرفہ کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

روسی دفتر خارجہ کاکہناہےامریکی حملےسےخطے میں کشیدگی بڑھےگی، شام نے بھی حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیا جبکہ حزب اللہ نے جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں میں سے ہیں، جن پر عمل کیا جانا چاہئے، اس ضمن میں یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو کشیدگی ختم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں،دوسری جانب امریکی صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے فضائی حملہ پر تنقید کی ہے،انھوں نے کہا کہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں تباہ کن جنگ کے قریب لے جائے گا۔

امریکی سینیٹر کرس مرفی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’سلیمانی امریکہ کا دشمن تھا، سوال یہ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ رپورٹس کے مطابق کیا امریکہ نے کسی کنگریشنل منظوری کے بغیر ہی ایران کے دوسرے سب سے مضبوط شخص کی ہلاکت کی اجازت دے دی یہ جانتے ہوئے کہ اس سے خطے میں بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے؟