حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے،عید کے بعد کیا ہوگا؟

حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے،عید کے بعد کیا ہوگا؟


آف دی پیپل،فار دی پیپل،بائے دا پیپل۔یہ ہے وہ جمہوریت کی تعریف جو گورے کرتے ہیں،لیکن پاکستان میں یہ لفظ پیپل مس ہے یہاں آف،فار اور بائے کے آگے حکمرانو ں کے تکبر ،انا اوراپوزیشن کی مال بچاﺅ مہم نے لے لی ہے،جس تھیلے میں جمہوریت کیلئے ہم نے ووٹ ڈالے تھے اس تھیلے سے آہستہ آہستہ بلی باہر آرہی ہے،حکومتی صفوں کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں،کسی کو عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی مروڑ اٹھ رہی ہے تو کوئی غیر منتخب افراد کے کلیدی حکومتی عہدوں پر براجمان ہونے پرغصہ نظر آتا ہے،ایسے لگتا حکومت خود اپنے کیخلاف محاذ بنانے پر تلی ہے۔

وزارت اطلاعات سے سائنس کی وزارت پانیوالے فواد چودھری کہتے ہیں کہ حکومت میں فیصلے ہوجاتے ہیں کابینہ کو پتہ نہیں چلتا،پتا نہیں کون فیصلے کررہا ہے،انہوں نے پارٹی کو غیر منتخب افراد کے ہاتھوں یرغمال بننے کا شکوہ بھی کیا ہے،ان کا شکوہ بجا ہے کیونکہ جدھر دیکھتا ہوں میں ہی میں ہوں۔

اپوزیشن جس کیلئے پر تول رہی تھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت قریب ہے، مسلم لیگ ن کی جانب سے وائٹ پیپر جاری کردیا گیا ہے،ن لیگی کہہ رہے ہیں کہ حکومت گرانا پڑی تو گرائیں گے،ادھر ایک انٹرویو میں سردار اختر مینگل نے بھی اس قسم کا اظہار کیا ہے کہتے ہیں کہ عید کے بعد بلوچستان حکومت گرادینگے،حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے ،بجٹ کیلئے ووٹ نہیں دینگے۔ملک میں جو ایشوز بن رہے وہ اپوزیشن کے اتنے بنائے ہوئے نہیں جتنے خود حکومت نے بنائے ہیں،شاید ن لیگ کے وائٹ پیپر کو اتنی اہمیت نہ ملے لیکن اس کے علاوہ کچھ ایسے ایشوز بن رہے ہیں جس کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا۔ان میں مہنگائی سرفہرست ہے ،بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام کے صبر کا پیمانہ جواب دیتا جارہا ہے،عوام کے اندر ایک لاوا پک رہا ہے جسے صرف چنگاری دینے کی ضرورت ہے۔دوسری شمالی وزیرستان کی صورتحال ہے جو تمام ایشوز سے زیادہ خطرناک ہے،اسی طرح عدلیہ کیخلاف حکومت کی محاذ آرائی ہے، وکلا کھل کر اپنے ججوں کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں کہتے ہیں کہ ہم اسلام آباد آئے تو مرنے کیلئے آئیں گے۔

اگر ماضی میں جائیں تو مشرف کیخلاف تحریک شروع کرنے میں اپوزیشن جماعتوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا ،میں اس تحریک کا گواہ ہوں ،یہ تحریک وکلا اور طلبا نے شروع کی تھی،جب آگ لگی تو جلتی پر تیل کا کام ان سیاسی جماعتوں نے کیا۔قبائلی علاقوں میں ایک ردعمل پایا جاتاہے اور سپریم کورٹ بار کے صدر امان کنرانی نے احتجاج کی کال دی ہے ، یہ دو باتیں اہم ہیں۔اب دیکھناہے کہ امان اللہ کنرانی کی ہڑتال کی کال میں کتنا دم خم ہوتا ہے ،باقی باتیں چلتی رہیں گی۔

سوال یہ ہے کہ عید کے بعد کیا ہوگا؟ اسٹیبلشمنٹ حکومت کو سپورٹ کررہی ہے اور اگر اپوزیشن جماعتیں تحریک کا فیصلہ کرتی ہیں تو یہ تحریک اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوگی۔ فی الحال تو باتیں نظر آرہی ہیں، زرداری صاحب کو پہلے چھوٹ تھی اب وہ نہیں رہی، وہ سمجھ رہے ہیں کہ اب لائن کٹ گئی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ زرداری صاحب جیل جانے سے پہلے یہ کرتے ہیں یا بعد میں کیونکہ نیب کے چیئرمین کہہ چکے ہیں کہ جیل میں جانا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حالت بھی ایسی ہے جب تک ان کو ضمانتیں ملنے کی امید تھی تب تک خاموش رہے،اب جب کچھ نظر نہیں آیا تو باہر نکلے ہیں ،اگر ہائیکورٹ سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ضمانت مل جائے گی تو کام ٹھنڈا پڑ جائے گا،فی الحال تحریک کی باتیں ہی نظر آرہی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام جماعتیں احتجاجی تحریک کیلئے تیار ہیں مولانا فضل الرحمان تو شروع دن سے سڑکوں پر آنے کی بات کررہے ہیں ،بلاول اور مریم نواز کی باتوں سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی ریلیف ملنے کیلئے پر امید ہیں۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ سڑکوں پر نہ بیٹھی تو جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کے لوگ سڑکوں پر بیٹھ گئے تو اٹھانا ناممکن ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کے اپنے خیالات ہیں،ادارے کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer