جنگلی حیات کا عالمی دن اور گلگت بلتستان

جنگلی حیات کا عالمی دن اور گلگت بلتستان


گلگت(24نیوز) جنگلی حیات کا عالمی دن گلگت بلتستان میں منایا جا رہا ہے۔

 مخصوص جغرافیہ اور موسمی حالات کے پیش نظر گلگت بلتستان کا خطہ جنگلی حیات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ یہاں کے پہاڑ نایاب جنگلی حیات کے مسکن ہیں جنکی تعداد دنیا میں تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

 جس کے باعث حکومتی اور کمیونٹی کی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے بھرپور انداز میں کام کیا جا رہا ہے. محکمہ جگلی حیات گلگت بلتستان کے مطابق خطے میں اس وقت آی بیکس 25 ہزار سے زائد تعداد میں پائے جاتے ہیں جبکہ نایاب استوری مارخور دو ہزار 7 سو۔

 بلیو شیپ 3ہزار 2سو، مشک نافہ والے ہرن 125، اڑیال 125، نایاب برفانی بھورے ریچھ 75، کالے ریچھ 35، برفانی چیتا 45، جنگلی بلی 205 اور برفانی لومڑی 35 کی تعداد میں ہیں۔ گلگت بلتستان میں پائے جانے والے پرندوں کی اقسام بھی ہزاروں میں ہے لیکن یہاں پاے جانے والے مشہور پرندوں میں چکور، رام چکور، فاختہ اور باز قابل ذکر ہیں۔

 گلگت بلتستان میں پائے جانے والے ان نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے حکومت نے 5 بڑے نیشنل پارک بناے ہیں جن میں 10 ہزار مربع کلومیٹر کے احاطے پر پھیلے سنٹرل نیشنل قراقرم پارک۔ 5544 مربع کلومیٹر پر پھیلے خنجراب نیشنل پارک،3634 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا دیوسائی نیشنل پارک، 200مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا شندور نیشنل پارک اور 165مربع کلومیٹر رقبے پر محیط قرمبر نیشنل پارک شامل ہے۔

 جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے کمیونٹی کے بھرپور کردار کے بعد علاقے میں جنگلی حیات کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت نے محدود پیمانے پر ٹرافی ہنٹینگ کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور سالانہ 8 سے 10 آی بیکس اور 5 سے 6 مارخور کے شکار کے لائیسنس جاری کرتی ہے۔

 استوری مارخور کے شکار کی فیس ایک لاکھ امریکی ڈالر جبکہ آی بیکس کے شکار کی فیس 34ہزار امریکی ڈالر مقرر ہے جسکا 80 فی صد کمیونٹی کو اور 20 فی صد رقم حکومتی خزانے میں جمع کی جاتی ہے۔